لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 569
569 حکومت کی طرف سے شر پسند اخبارات کو عطایا تحقیقاتی رپورٹ صفحه ۸۴ سے ظاہر ہے کہ ڈائریکٹر تعلقات عامہ نے ۵۲-۱۹۵۱ء اور " ۱۹۳۲-۵۳ء میں مجموعی حیثیت سے ایک لاکھ روپیہ آفاق کو اٹھاون ہزار احسان کو پندرہ ہزار ” مغربی پاکستان کو اور تمیں ہزار روپیہ زمیندار کو دیا۔۱۳۰ اگر حکومت چاہتی تو کیا مجال تھی کہ یہ اخبارات اس شورش میں حصہ لیتے۔مگر ان اخبارات نے لوگوں کو مشتعل کرنے میں دوسرے اخبارات سے بھی زیادہ حصہ لیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا گویا اس وقت کی حکومت خود روپیہ خرچ کر کے اخبارات کے ذریعہ پبلک کو شورش پیدا کرنے کے لئے اکسار رہی تھی۔محکمہ اسلامیات اور حکومت پھر محکمہ اسلامیات کے نام سے جن علماء پر حکومت کی طرف سے روپیہ صرف کیا گیا ان میں سے بھی بیشتر نے اس تحریک میں پورا حصہ لیا۔مشہور علماء کے نام یہ ہیں۔مولانا ابوالحسنات محمد احمد مولا نا محمد بخش صاحب مسلم، مولوی غلام دین صاحب، صاحبزادہ فیض الحسن صاحب علامہ علاؤ الدین صاحب صدیقی، مولانا غلام محمد صاحب ترنم قاضی مرید احمد صاحب حافظ کفایت حسین صاحب پروفیسر عبدالحمید صاحب، مولانا سلیم اللہ صاحب مفتی محمد حسن صاحب۔۱۳۱ فسادات کی انتہاء۔مارچ ۱۹۵۳ء حکومت کی مسلسل نرمی اور آل پارٹیز کے علماء کو ڈھیل دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ علماء نے سارے ملک میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال انگیز کی حد کر دی۔خاکسار راقم الحروف کو وہ زمانہ خوب یاد ہے۔ان ایام میں احمدی بڑی ہی مظلوم حیثیت میں تھے۔ان کا کا روبار بند ہو چکا تھا اور دعاؤں میں مصروف رہتے تھے۔مارچ ۱۹۵۳ء کے پہلے ہفتہ میں تو احمدیوں کے لئے ریل گاڑی اور بسوں پر سفر کرنا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ہر سواری پر ہر راستہ میں اور ہر گھر میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کا چرچا تھا اور شرفاء بیچارئے بے بس تھے۔بے عزتی کے ڈر سے حق و انصاف کا ساتھ دینا بھی ان کے لئے دشوار ہو رہا تھا۔ادھر