لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 568
568 کرسیاں محفوظ رہیں۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ایک اور اشتعال انگیز تقریر ۲۵۔اگست ۱۹۵۱ء ۲۵۔اگست ۱۹۵۱ء کو سید عطا اللہ شاہ صاحب بخاری نے موچی دروازہ کے باہر ایک اور اشتعال انگیز تقریر کی جس میں بیان کیا کہ (الف) چوہدری ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان مملکت کے وفادار نہیں۔(ب) تقسیم سے قبل جماعت احمدیہ نے اپنے پیروؤں کو بتایا تھا کہ پاکستان وجود میں نہیں آئے گا اور اگر کوئی اس قسم کی مملکت پیدا بھی کر لی گئی تو تقسیم شدہ ملک دوبارہ متحد ہو جائے گا۔( ج ) احمدی بھارت کی حکومت کے جاسوس ہیں۔اگر بھارت کے ساتھ جنگ چھڑ جائے تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر احمدیوں کی بیخ کنی کر دینی چاہئے جو مملکت کے دشمن ہیں۔آل پارٹیز کنونشن لاہور ۱۳ جولائی ۱۹۵۲ء اس قسم کی بیبیوں کنونشنیں اور کانفرنسیں ملک کے طول وعرض میں احراریوں نے اس سال منعقد کیں مگر ہم اپنے مضمون کو صرف لا ہور تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔۱۳ جولائی ۱۹۵۲ء کو لاہور میں ایک آل پائیز کنونشن منعقد کی گئی جس کے داعیوں میں اکثریت احراری علماء کی تھی اور دعوت نامے کوئی ساٹھ علمائے دین کے نام جاری کئے گئے تھے اور کنونشن میں دوسرے علماء کے علاوہ کراچی سے مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا عبدالحامد بدایونی اور سید سلمان ندوی بھی شامل ہوئے تھے۔اس کنونشن میں تین مطالبات منظور کئے گئے۔ا۔چوہدری ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ کے عہدہ سے برطرف کیا جائے۔۲۔احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور ۳۔احمدیوں کو مملکت کے کلیدی عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔اس کنونشن میں ملک کے ہیں نامور علماء کی ایک مجلس عمل مرتب کی گئی تا کہ آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جاوے۔