لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 447
447 پانچواں باب لاہور میں امارت کا قیام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بعض ا لیکچر غیر مبائعین کے منصوبے اور ناکامیاں سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی کا انتخاب ہوتے ہی جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور ان کی پارٹی کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں اور انہوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ماتحت قادیان کو خیر باد کہہ کر حد یہ بلڈنگس لا ہور میں اپنا الگ مرکز بنا لیا۔آتی مرتبہ قادیان کے خزانہ میں صرف چند آنے چھوڑے اور قرآن کریم کی تفسیر مکمل کرنے کے بہانہ سے مرکزی لائبریری میں سے نہایت ہی قیمتی لٹریچر بھی اپنے ساتھ لے آئے۔اس گروہ کے ساتھ خواجہ کمال الدین صاحب بھی تھے جو ایک قابل وکیل ہونے کے علاوہ ایک اچھے لیکچرار بھی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضور کی طرف سے عدالتوں میں وکالت کے فرائض سرانجام دے کر جماعت میں کافی شہرت حاصل کر چکے تھے۔جناب مولوی محمد علی صاحب صدرا انجمن احمدیہ کے سیکرٹری تھے۔ریویو آف ریجنز کے ایڈیٹر اور سلسلہ کا کام محنت سے کرنے کی وجہ سے جماعت میں کافی متعارف ہو چکے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے درسوں میں باقاعدگی کے ساتھ شامل ہو کر قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیری نوٹ بھی جمع کر کے حضور کو سنا کر اسے انگریزی زبان کا جامہ پہنا چکے تھے۔ان کا یہ خیال تھا کہ اگر وہ قادیان کو چھوڑ کر چلے گئے تو سلسلہ کی ترقی رک جائے گی۔جناب مولوی صدرالدین صاحب بی۔اے۔بی۔ٹی تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر اور صدر انجمن احمد یہ کے قائم مقام سیکرٹری بھی تھے۔یہ بھی کافی ہوشیار تھے۔اسی طرح جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اپنے