لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 436
436 لو۔میں بھی تمہارے لئے دعا ئیں کروں گا‘ و باللہ التوفیق کے اس تقریر میں حضرت خلیفہ امسیح الاول نے خلافت نبوت اور کفر و اسلام کے مسائل کو ایسے عام خلیفہ المسیح فہم پیرا یہ میں حل فرما دیا ہے کہ ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اس کے مخاطب کون لوگ ہیں اور کن کو یہ مسائل سمجھائے جا رہے ہیں؟ کونسا وہ گروہ ہے جس نے خلافت اور انجمن کے تعلقات کو الجھانا چاہا۔کونسا گر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضور کی نبوت کا منکر بنا ہے اور کس نے مسئلہ کفر و اسلام میں طوفان بے تمیزی برپا کر رکھا ہے؟ پھر کسی گروہ نے خلیفہ وقت کو معزول کرنے کی کوشش کی تھی؟ یہ سارے مسائل ایسی وضاحت کے ساتھ حق کے منکر گروہ کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ معمولی غور و فکر کرنے والے دماغ کے لئے کوئی الجھن باقی رہتی ہی نہیں۔اس تقریر کا ایک اور فقرہ بھی قارئین کرام کیلئے قابل غور ہے حضور فرماتے ہیں۔پس جب تک خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا۔ان ( مسائل مؤلف ) پر رائے زنی نہ کرو“۔اب غیر مبائعین بتائیں کہ ان میں کونسا شخص حضرت خلیفہ المسح الاول کا خلیفہ ہے جس نے انہیں ان کے موجودہ مسلک پر قائم کیا ہے؟ اس فیصلہ کن اور طمانیت بخش تقریر کے بعد منکرین خلافت کو چاہیئے تو یہ تھا کہ وہ اپنی زہریلی تقریروں کا رخ موڑ کر اپنی سابقہ روش کو بدل لیتے۔مگر ان کے قلوب سے منافرت اور تفرقہ انگیزی کے جراثیم مئے نہیں۔البتہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی اس تقریر کے اثر سے کچھ عرصہ کے لئے دب ضرور گئے۔مگر اندر ہی اندر یہ مواد پک رہا تھا اور جب مکمل طور پر پختہ ہوگیا تو ان لوگوں نے سوچا کہ اب جب تک حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے بھی براہ راست ٹکر نہ لی جائے ہماری کامیابی مشکل ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے مرکز لاہور سے ایک پر چہ بنام ”پیغام صلح نکالنے کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔ادھر سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جماعت کی تربیت اور رہنمائی کے لئے حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے ایک اخبار قادیان سے جاری کرنا چاہتے تھے۔مگر جب آپ نے یہ سنا کہ احباب لاہور بھی ایک اخبار نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں تو آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی خدمت میں لکھا۔کہ لاہور سے جماعت کے احباب ایک اخبار نکال رہے ہیں اس لئے حضور اگر پسند