لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 420
420 گھر جانے کو دل چاہتا ہے۔گھر سے میری مرا دلندن ہے۔سبحان اللہ سبحان اللہ ! کیوں تم کو ان وطنوں سے نکال کر دوسرے وطنوں میں آباد نہ کیا جائے۔رویاء کیا برحق ثابت ہوا۔خاں نواب محمد علی خاں صاحب اس رویاء سے واقف ہیں۔ان واقعات کی شہادت خود حضرت قبلہ مولوی صاحب سے لی جائے۔آیا یہ بچے امور ہیں یا نہیں۔ابھی دو ماہ ہوئے جب میں نے ان کو کہا کہ آپ کسی کو میری مدد کے لئے لندن بھیج دیں۔تو میں نے پھر اس خواب کی طرف اشارہ کر کے لکھا کہ خواب تو چاہتا ہے کہ میرے ہمراہ چار پانچ اور بھی وطنوں کو چھوڑ کر غریب الوطنی اختیار کریں اور آپ کے حکم سے۔آپ کیوں حکم صادر نہیں فرماتے۔میرے ساتھ تو چار پانچ اور بھی تھے جب آپ نے مجھے جلا وطن کیا۔بہر حال ہمارے دو تین احباب جو قاضی یار محمد صاحب کے معاملہ میں کچھ متامل سے ہیں چونکہ وہ اس احمدی سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے لئے خواب اور مکاشفات حجت ہوتے ہیں۔وہ ان امور بالا پر غور کریں۔یہ رویاء تو کچھ ایسا قادیان میں مشہور تھا۔کہ ۱۹۰۹ء میں بعض واقعات کے پیدا ہونے پر مجھے طنزاً اسیر سلطانی کہہ کر پکارا جاتا تھا اور ایک میرے قابل دوست کے لئے تو اب میرا یہ اسیر سلطانی کا خواب بہت سارے پریشان کن حالات کا موجب ہو جایا کرتا تھا والسلام خادم خواجہ کمال الدین ٹر مینس فورڈ ہوٹل پیرس ۶۔جولائی جناب خواجہ صاحب کی اس تحریر سے ظاہر ہے کہ وہ اور ان کی پارٹی کے دوسرے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر خلافت کو ضروری سمجھتے تھے۔تبھی تو حضور کی نعش مبارک کے ساتھ لاہور سے قادیان جاتے ہوئے رستے میں محترم شیخ رحمت اللہ صاحب سے پوچھا کہ ” جتلا و! اب خلیفہ کون ہوگا “۔دوم : حضرت اقدس کے بعد جب خواجہ صاحب نے حضرت خلیفہ مسیح الا وال کی خدمت میں وہ کاغذ پیش کیا تو اس رویاء کی حقیقت آپ پر کھل گئی۔چنانچہ خواجہ صاحب لکھتے ہیں : وو وہ حسرت آج تک میرے پیش نظر ہے جو اس کاغذ کو دیکھ کر مولوی صاحب کے چہرے پر نمودار