لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 38 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 38

38 ان لیکچروں میں سب سے عمدہ لیکچر جو جلسہ کی رُوح رواں تھا، مرزا غلام احمد قادیانی کا لیکچر تھا جس کو مشہور فصیح البیان مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے پڑھا۔یہ لیکچر دودن میں تمام ہوا۔۲۷ دسمبر قریباً چار گھنٹے اور ۲۹ دسمبر کو دو گھنٹے تک ہوتا رہا۔کل چھ گھنٹے میں لیکچر تمام ہوا جو حجم میں سو صفحے کلاں تک ہوگا۔غرضیکہ مولوی عبدالکریم صاحب نے یہ لیکچر شروع کیا اور کیسا شروع کیا کہ تمام سامعین لٹو ہو گئے۔فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کیلئے حاضرین کی طرف سے فرمائش کی جاتی تھی۔عمر بھر ہمارے کانوں نے ایسا خوش آئند لیکچر نہیں سنا۔دیگر مذاہب میں سے جتنے لوگوں نے لیکچر دیے سچ تو یہ ہے کہ وہ جلسہ کے منتنفسرہ سوالوں کے جواب بھی نہیں تھے۔عموماً سپیکر صرف چوتھے سوال پر ہی رہے اور باقی سوالوں کو انہوں نے بہت ہی کم پیش کیا اور زیادہ تر اصحاب تو ایسے بھی تھے جو بولتے تو بہت تھے مگران میں جاندار بات کوئی نہیں تھی۔بجز مرزا صاحب کے لیکچر کے جو ان سوالات کا علیحدہ علیحدہ اور مفصل و مکمل جواب تھا اور جس کو حاضرین جلسہ نے نہایت ہی توجہ اور دلچسپی سے سنا اور بڑا ہی بیش قیمت اور عالی قدر خیال کیا۔ہم مرزا صاحب کے مرید نہیں اور نہ ان سے ہم کو کوئی تعلق ہے۔لیکن انصاف کا خون ہم کبھی نہیں کر سکتے اور نہ کوئی سلیم الفطرت اور صحیح کانشنس اس کو روا رکھ سکتا ہے۔مرزا صاحب نے گل سوالوں کے جواب ( جیسا کہ مناسب تھا ) قرآن شریف سے دیئے اور تمام بڑے بڑے اصول وفروعات اسلام کو دلائل عقلیہ سے اور براہین فلسفہ کے ساتھ بہترین مزین کیا۔پہلے عقلی دلائل سے الہیات کے مسئلہ کو ثابت کیا اور اس کے بعد کلام الہی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجیب شان دکھاتا تھا۔” مرزا صاحب نے نہ صرف مسائل قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظ قرآنی کی فلالوجی اور فلاسفی بھی ساتھ ساتھ بیان کر دی۔غرضیکہ مرزا صاحب کا لیکچر بحیثیت مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بے شمار معارف و حقائق وحکم واسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفہ الہیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہل مذاہب ششدر ہو گئے تھے۔کسی شخص کے لیکچر کے وقت اتنے آدمی جمع نہیں تھے جتنے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت۔