لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 217
217 حضرت بابو غلام محمد صاحب رضی اللہ عنہ ولادت : ۱۸۶۰ء بیعت : مارچ ۱۸۹۷ ء وفات : ۲۵ اپریل ۱۹۴۶ء عمر : ۸۶ سال حضرت با بو غلام محمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ا۔مارچ ۱۸۹۷ء میں ہم لاہور کے کافی نوجوانوں نے جو سارے کے سارے تعلیم یافتہ تھے اور جن کی صحیح تعداد یاد نہیں رہی ارادہ کیا کہ حضرت مرزا صاحب کو قادیان جا کر دیکھنا چاہئے کیونکہ باہر تو انسان تصنع سے بھی بعض کام کر سکتا ہے لیکن اگر اس کے گھر میں جا کر اسے دیکھا جائے تو اصل حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔خیر ہم حضرت اقدس کے دعوی کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے عازم قادیان ہو گئے۔ہم میں سے ہر شخص نے الگ الگ اعتراضات سوچ لئے تھے جو وہ کرنا چاہتا تھا۔مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر محمد اقبال صاحب، مولوی غلام محی الدین صاحب قصوری چوہدری شہاب الدین صاحب، مولوی سعد الدین صاحب ( بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی) وغیرہ بھی اس قافلہ میں شامل تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب جو ۱۸۹۴ ء میں بیعت کر کے سلسلہ عالیہ میں داخل ہو چکے تھے۔مگر آپ چونکہ اس پارٹی اور خصوصاً مولوی محمد علی صاحب کو تبلیغ کیا کرتے تھے اس لئے آپ بھی ہمارے ساتھ گئے تھے۔جب ہم قادیان پہنچے تو گول کمرہ میں ہمارے لئے ملاقات کا انتظام کیا گیا۔حضور جب تشریف لائے تو آتے ہی ایک تقریر کے رنگ میں ہمارے ایک ایک اعتراض کو لے کر اس کا جواب دینا شروع کیا۔حتی کہ ہم سب کے اعتراضات کا مکمل جواب آ گیا۔تب ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر تعجب کرنے لگے کہ یہ کیسے ہوا؟ جب باہر نکلے تو بعض نے کہا کہ یہ سچ مچ مامور من اللہ ہے اور بعض نے کہا یہ جادوگر ہے۔چوہدری شہاب الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ نے کہا کہ یہ ضرور سچا ہے ہم تو بیعت کرتے ہیں۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب، چوہدری شہاب الدین صاحب، ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اور مولوی غلام محی الدین صاحب قصوری اور خاکسار نے بیعت کر لی۔بعض اور لوگوں نے بھی بیعت کی تھی مگر ان کے نام مجھے یاد نہیں رہے۔انداز آبارہ تیرہ آدمیوں نے بیعت کی تھی۔رات کو کھانا کھانے کے بعد جب چار پائیاں تقسیم ہوئیں تو میں نے مضبوط اور بڑی چارپائی لے