لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 196
196 چنانچہ حضرت مفتی صاحب نے وہ خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے ان کا تقرر بطور مبلغ جماعت احمدیہ کر دیا اور راولپنڈی بھیج دیا کیونکہ ان دنوں وہاں غیر مبائعین کا زور تھا۔حضرت مولوی فضل الہی صاحب ۲۵ برس سرگودھا میں قیام کرنے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے قادیان ہجرت کر گئے اور تقسیم ملک تک وہاں ہی رہے۔قادیان میں سب سے پہلے عمارتی لکڑی کی دوکان کھولی اور قادیان میں اپنے دوستوں کے متعدد مکانات اپنی زیر نگرانی تعمیر کروا کر دیئے دوست باہر سے روپیہ بھیج دیتے مولوی صاحب اپنی زیر نگرانی مکان تعمیر کروا دیتے اور کسی شخص کو یہ شکایت نہیں ہوئی کہ مکان اچھا نہیں بنایا مہنگا بنا ہے بلکہ ان کی دیانتداری کے لوگ مداح تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق عطا فرمائی کہ ان کی زیر نگرانی قادیان میں قصر خلافت تعمیر ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا کی بناء پر حضرت مولوی صاحب موصوف کے سپر دقصر خلافت کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ ان کے والد میاں کرم دین صاحب خاندان مغلیہ میں سے تھے اور ۱۸۵۷ء کے غدر میں دتی چھوڑ کر پنجاب آگئے تھے اور پھر احمد آباد میں جو کہ دریائے جہلم کے کنارے ایک گاؤں ہے آباد ہو گئے اور بقیہ عمر یاد الہی میں گزاری۔یہیں شادی کی اور ان کے ہاں ایک ہی لڑکا ہوا۔جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اولین صحابہ میں شامل ہونے کا فخر عطا فرمایا۔ہر سال یکم محرم کو حضرت مولوی صاحب کے والد مرحوم کا عرس ہوتا ہے اور اردگرد کے دیہات کے لوگ اپنے عقیدے کے مطابق ان کے مزار پر جمع ہو کر عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔اولاد:ا۔حمیدہ بیگم اہلیہ مولوی غلام احمد صاحب ارشد ۲ - فضل الرحمن صاحب ۳ - امتہ الحفیظ بیگم بیوه ملک غلام رسول صاحب ۴۔عطاء الرحمن مولوی فاضل جنرل سیکرٹری جماعت احمد یہ ماڈل ٹاؤن لا ہور ۵۔امتہ المجید ز وجہ ملک محمد حیات صاحب ۶ - برکات الرحمن نسیم حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب ولادت : ۲۴ جون ۱۸۷۶ء بیعت : ۱۸۹۶ ء وفات : ۹۔اگست ۱۹۶۵ء حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب کو حضرت مولانا غلام حسین صاحب پشاورٹی نے حضرت مسیح موعود