لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 165
165 فرشتہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہے۔تربیت جماعت تربیت جماعت کا آپ خاص خیال رکھا کرتے تھے۔اگر دو احمد یوں میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جاتا بد عهدی بد معاملگی یا حساب فہمی کا۔تو آپ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک اسے رفع دفع نہ کر لیتے۔جماعتی تربیت کا ایک لطیف پہلو یہ بھی تھا کہ آپ بعض اوقات کسی غریب احمدی سے ایک یا دو روپے چندہ وصول کرنے کی خاطر اپنی گرہ سے سواری پر دو تین روپے خرچ کر دیا کرتے تھے اور مقصد آپ کا یہ ہوتا تھا کہ اس دوست کو چندہ دینے کی عادت پڑ جائے۔آپ کی تبلیغی سرگرمیاں آپ کو تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا اور بعض اوقات اپنے خرچ پر تبلیغی ٹریکٹ شائع کر کے اپنی دوا مفرح عنبری“ کے پیکٹ میں رکھ کر ملک کے طول و عرض میں پھیلا دیا کرتے تھے۔چنانچہ ۱۹۰۳ء میں آپ نے حضرت حاجی الحرمین مولانا حکیم نورالدین صاحب کی بیان فرمودہ ایک تفسیر سورۃ جمعہ شائع کی اور اس کا ایک نسخہ اور چند رسالے ریویو آف ریچز کے برہمن بڑیہ ( بنگال ) کے ایک وکیل محمد دولت خاں صاحب کو مفرح عنبری“ کے ہمراہ بھیج دیئے۔وکیل صاحب نے وہ تفسیر اور رسالے حضرت مولوی سید عبد الواحد صاحب کو دے دیئے۔مولوی صاحب نے تحقیقات شروع کر دی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شامل ہو گئے۔حضرت قریشی صاحب نے حضرت مولانا سید عبدالواحد صاحب کے بعد دوسرے پر اوشنل امیر پروفیسر عبداللطیف صاحب کے زمانہ میں بنگال کی جماعتوں کا دورہ بھی کیا۔حضرت خلیفہ ثانی کی کتاب ”تحفۃ الملوک“ کی طباعت ایک اور کام اللہ تعالی نے آپ سے یہ لیا کہ ۱۹۱۴ء میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے نواب آصف جاہ نظام حیدر آباد دکن کے نام ایک تبلیغی خط لکھا جو کتاب کی صورت میں