لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 164
164 ساری مٹھائی تو لو۔جب اسے تو لا گیا تو کل مٹھائی ساڑھے چار یا پانچ روپے کی تھی وہ آپ نے ساری خرید لی اور اس طرح ایک ستم رسیدہ دل کی ڈھارس بنے۔قریشی صاحب کے بعد حضرت میاں محمد صاحب تشریف لائے اور آتے ہی پوچھا سناؤ میاں مٹھائی والے ! کیا حال ہے؟ عظیم صاحب نے کہا۔جناب! آج بکری بہت کم ہوئی تھی مگر قریشی صاحب نے ساری مٹھائی خرید لی ہے۔فرمایا کل دو روپے کی مجھے دے دینا۔چنانچہ دوسرے دن دو روپے کی مٹھائی حضرت میاں محمد صاحب نے خرید لی اور باقی بھی ہاتھوں ہاتھ نکل گئی۔حضرت میاں محمد صاحب کے بعد قریشی صاحب تشریف لائے اور آتے ہی پوچھا۔سناؤ میاں عظیم ! آج بکری کا کیا حال رہا۔عرض کی۔جناب آج تو ساری مٹھائی ہاتھوں ہاتھ بک گئی ہے۔فرمایا۔پھر آؤ! دعا کریں۔چنانچہ سب حاضرین نے مل کر دعا کی۔آپ کا لباس اور خلیہ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے لباس اور حلیہ کا بھی ذکر کر دیا جائے۔آپ سلوار، قمیص، لمبا کوٹ اور سفید پگڑی پہنا کرتے تھے۔قدلمبا چہرہ لمبوتر امگر بڑا ہی خوبصورت اور بارعب ما تھا کشادہ اور ابھرا ہوا، ناک اونچی آنکھیں موٹی داڑھی لمبی، ہر وقت ہشاش بشاش معلوم ہوتے تھے۔پاؤں میں دہلی والی کھال کی جوتی پہنا کرتے تھے۔سینہ کشادہ پاؤں بھارے۔جرا ہیں سردی گرمی ہر موسم میں پہنا کرتے تھے۔کوئی ہنسی والی بات سن کر مسکراتے تھے مگر منہ زیادہ نہیں کھولا کرتے تھے۔تقریر کرتے وقت ہاتھ پاؤں نہیں مارتے تھے بلکہ نہایت ہی آرام اور سکون کے ساتھ کھڑے ہو کر بڑے ہی وقار کے ساتھ بولتے جاتے تھے۔خاکسار راقم الحروف کو یہ شرف حاصل ہے کہ جنوری ۱۹۲۵ء کو جب کہ یہ خاکسار پہلی مرتبہ ہندو ہونے کی حالت میں محترم میاں محمد مراد صاحب کے ساتھ قادیان جا رہا تھا تو راستہ میں رات حضرت قریشی صاحب کے گھر میں گزاری تھی۔مجھے آپ کے عشاء کی نماز پڑھنے کی بعد وتر کی نماز پڑھنے کا نظارہ اب تک یاد ہے۔ایک قالین کے اوپر جائے نماز پر آپ نے پہلے دورکعت نماز ادا کی اور پھر ایک رکعت الگ پڑھ کر وتر مکمل کئے نماز پڑھتے وقت آپ کی شکل دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی