لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 160
160 بعد میں جب آپ کو اطلاع ملی کہ حضرت اقدس گھر میں واپس تشریف لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ نے حضور کی خدمت میں لکھا : بسم م الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی على رسوله الكريم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مولوی عبد الکریم صاحب کے خط سے معلوم ہوا کہ حضور نے اب گاؤں میں واپس جانے کا عنقریب ارادہ ظاہر فرمایا ہے۔بنابر میں عرض ہے کہ ہمارے لئے کیا حکم ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کے احسان اور حسن اتفاق سے عمدہ مکان باہر جنگل میں ملا ہوا ہے اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی جماعت بھائیوں کی ہمراہ ہے مل کر نماز ہو جاتی ہے۔دعاؤں کا اکثر موقع ملتا ہے۔اگر اس کو ہم چھوڑ دیں تو دوبارہ ایسا مکان ملنا لا ہور میں قریباً محال معلوم ہوتا ہے۔اگر حضور کو ایسا معلوم ہوتا ہو کہ کچھ عرصہ بعد پھر باہر نکلنا ہوگا تو کیا ہم یہیں رہ سکتے ہیں یا شہر میں چلا جانا ضروری ہے۔اس بارے میں جیسا حضور کا حکم ہو گا اس پر عمل کیا جائے گا۔لاہور میں مکانوں کی یہ قلت ہو گئی ہے کہ دو ماہ سے اکثر بھائی تلاش کر رہے اور تلاش بھی ہر روز دو تین گھنٹہ کرتے ہیں لیکن مکان قابل رہائش کو ئی نہیں ملتا۔والسلام اس خط کی پشت پر حضور نے اپنی قلم سے تحریر فرمایا: عاجز محمد حسین قریشی لا ہور۔۲۔جولائی ۱۹۰۵ء چونکہ خدا تعالیٰ ( نے ) حادثہ آنے کی کوئی تاریخ نہیں بتلائی اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔میں بباعث آمد برسات قادیان میں آ گیا ہوں۔میرے نزدیک مناسب ہے کہ شہر میں آجائیں۔کہ برسات میں باہر تکلیف نہ ہو۔اگر خدا تعالیٰ نے کوئی خاص اطلاع دی تو میں اطلاع دوں گا۔از غلام احمد عفی عنہ یہ پورا خط حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ حضرت قریشی صاحب کو بھجوایا: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔پرسوں سے ہم سب گاؤں میں آگئے ہیں۔آپ کی خوشی کے لئے حضرت کے ہاتھ کا لکھا ہوا جواب بھیجتا ہوں۔ایک نہایت ضروری عرض ہے کہ مسجد مبارک کے جنوبی سمت کا ویران مکان کل حسب مشورہ حضرت اقدس فیصلہ ہو گیا ہے کہ ( مسجد کو فراخ کرنے کی غرض سے ) خریدا جاوے۔روپیہ ( اس مد کا ) موجود نہیں۔بڑی غور