لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 146
146 محترم خلیفہ رجب دین صاحب ( غیر مبالع) ولادت: بیعت : ۱۸۹۲ء یا اس سے قبل وفات: جناب خلیفہ رجب دین صاحب احمدیت قبول کرنے سے پہلے کڑا اہلحدیث تھے۔محترم خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے۔خلافت ثانیہ کے شروع میں غیر مبائعین کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔اخبار ”پیغام صلح کے مینیجر بھی رہے۔ان کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں ۱۳ نمبر کیا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرحوم بہت پرانے احمدی تھے۔ولادت: حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بیعت : ۲۔جنوری ۱۸۹۲ء وفات: یکم جولائی ۱۹۲۶ء حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ایک نہایت ہی متقی اور پر ہیز گار بزرگ تھے۔آپ کی رہائش اندرون موچی گیٹ تھی۔آپ نے بالکل ابتدائی زمانہ میں یعنی ۲۔جنوری ۱۸۹۲ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلہ عالیہ میں داخل ہو گئے۔بسلسلہ ملا زمت آپ کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رہنا پڑا۔آپ ان خوش قسمت اصحاب میں سے تھے جن کی بیٹیاں خاندان مسیح موعود میں بیاہی گئیں۔چنانچہ آپ کی سب سے بڑی بیٹی سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کا نکاح اکتوبر سن 19ء میں سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ساتھ ہوا۔اور اگلے سال ۱۹۰۳ء میں اکتوبر کے دوسرے ہفتہ میں تقریب رخصتانہ عمل میں آئی۔جبکہ آپ آگرہ میں میڈیکل کالج کے پروفیسر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے اخلاص کی بہت تعریف کی ہے۔ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان آگئے تھے اور نور ہسپتال میں کئی سال تک انچارج کے طور پر کام کیا۔خاکسار راقم الحروف کے ساتھ بہت محبت سے پیش آیا کرتے تھے۔چنانچہ آپ کی محبت کا کچھ تذکرہ میں نے حیات نور میں بھی کیا ہے۔خاکسار کی آنکھوں میں ناخو نہ اتر آتا تھا اس کا آپریشن بھی آپ ہی نے کیا تھا۔آپ کی وفات یکم جولائی ۱۹۳۶ء کو ہوئی۔فانا للہ وانا اليه راجعون۔