لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 96
96 کہ حضور مجھے میاں چراغ الدین صاحب کے نام سفارش لکھ دیں کہ میری اس کام میں مدد کریں۔آپ نے فرمایا : ” جب خدا ہے تو سفارش کی کیا ضرورت ہے“ خدا تعالیٰ کی قدرت وہ میرا کام بغیر سفارش کے ہو گیا۔،، ایک مرتبہ صوفی صاحب پر سخت تنگی کا زمانہ آیا کہ آپ ایک ہزار روپے کے مقروض ہو گئے۔بیوی کا زیور بھی پک گیا۔آپ کے والد صاحب بھی شکایت کرنے لگے کہ یہ میری خدمت نہیں کرتا۔سلسلہ کی زیادہ سے زیادہ خدمت کیلئے بھی دل چاہتا تھا۔نیز آپ کے ایک دوست کے خاندان کی جوان لڑکی کا خاوند چار سال سے مفقود الخبر تھا۔یہ تمام امور پیش کر کے آپ نے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کی درخواست کی حضور نے فرمایا: 66 آپ نے کبھی اپنی تکالیف کا ذکر نہیں کیا۔یاد دلاتے رہا کرو۔“ جس وقت حضور نے یہ الفاظ کہے اس وقت آپ کی تنخواہ پندرہ روپے تھی۔اس کے چھ ماہ کے اندر اندر حضور کی دعا سے آپ کو افریقہ میں ۱۲۰ روپے کی ملازمت مل گئی۔ساتھ ہی ۴۵ روپے کوارٹر الاؤنس بھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کا قرضہ بھی اتر گیا اور ڈیڑھ ہزار روپیہ بچت بھی ہوگئی۔اس مفقود الخبر آدمی کی خبر بھی مل گئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔تین سال افریقہ میں رہنے کے بعد جب آپ واپس ہندوستان میں پہنچے تو چند دن دفتر ریویو آف ریلیجنز میں بطور کلرک بھی کام کیا۔مگر ایک شخص با بوا بناش صاحب کی وساطت سے آپ کو دوبارہ کا لکا شملہ ریلوے میں ملازمت مل گئی۔اس ملازمت کیلئے قادیان سے روانہ ہونے کا واقعہ بھی عجیب ہے۔آپ فرماتے ہیں۔مجھے جب کارڈ پہنچا تو میں نے ظہر کی نماز کے بعد حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے فرمایا: اسی وقت چلے جاؤ“ آپ نے عرض کی کہ حضور وقت بہت تھوڑا ہے۔حضور نے فرمایا: جب ہم جوان تھے تو تیز تیز چلا کرتے تھے“ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے پھر خوف کے لہجہ میں عرض کیا کہ وقت بہت تھوڑا ہے۔حضور نے