لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 97 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 97

97 دوبارہ فرمایا: ” جب ہم جوان تھے تو بہت تیز چلا کرتے تھے“ فرماتے ہیں کہ میں اسی وقت چل پڑا۔لیکن جب نہر سے پار ہوا تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا زمین پاؤں کے نیچے سے سمٹ رہی ہے۔میں ایسے وقت میں بٹالہ پہنچا جب کہ گاڑی سٹیشن پر پہنچ چکی تھی۔بغیر گنتی کے میں نے پیسے ٹکٹ بابو کے آگے رکھ دیئے۔اس نے گن کر کہا کہ ٹھیک ہیں۔جب میں ٹکٹ لے کر پلیٹ فارم کی طرف چلا تو خود بخود گیٹ کیپر نے دروازہ کھول دیا۔اور ایک معمر آدمی نے گاڑی کی کھڑ کی کھول دی جب میں گاڑی میں بیٹھ گیا تو دریافت کیا کہ گاڑی کے اتنی دیر سے پہنچنے کا کیا سبب ہے؟ اس پر اس پیر مرد نے کہا کہ ظاہر میں تو کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا۔لیکن اس سے پہلے سٹیشن پر گاڑی ۴۵ منٹ ٹھہری رہی۔صوفی صاحب فرماتے ہیں: غرض بیٹھتے ہی گاڑی چل پڑی اور جب میں لا ہور اسٹیشن پر پہنچا تو مجھے الہام ہوا ان الله هو الرزاق ذو القوة المتين شام کو میں بابوا بناش چندر کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور انہوں نے مجھے ایک چٹھی پنڈت گوپی ناتھ پانڈ یہ کے نام لکھ دی اور میں کالکارریلوے اسٹیشن پر ملازم ہو گیا۔یہ بھی حضرت اقدس علیہ السلام کی استجابت دعا کا ایک معجزہ ہے۔کے اولاد : تاج دین صاحب مرحوم۔مہتاب بیگم مرحومہ۔عبدالعزیز صاحب۔محمودہ بیگم جان۔عبدالحمید مرحوم۔فاطمہ بیگم۔عبد السلام - حمیدہ بیگم۔محمد شریف۔آمنہ بیگم مرحومہ۔عبدالقدیر۔سکینہ بیگم۔خاندان حضرت میاں چراغ دین صاحب ریس لاہور کے مختصر حالات یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی تبلیغ سے اس خاندان میں سب سے پہلے حضرت میاں معراج دین صاحب عمرؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی اور ان کے بعد چند سال کے اندراندر سارا خاندان سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔چونکہ شہر لاہور کے اصل باشندوں میں سے یہی ایک بڑا خاندان ہے جس نے سب سے پہلے احمدیت قبول کی۔اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس خاندان کا شجرہ نسب اور مختصر سے حالات درج کئے جائیں۔