لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 95
95 وو حاضرین تو بڑی توجہ سے آسمانی فیصلہ سننے میں مشغول رہے اور میں اپنے دل کے خیالات میں مستغرق تھا اور فیصلہ کر رہا تھا کہ یہ وہی نورانی صورت ہے جس کو طالب علمی کے زمانہ میں میں نے خواب میں دیکھا تھا۔اس کے بعد جلسہ برخاست ہوا۔اور ہر ایک حضرت صاحب سے مصافحہ کرتا اور رخصت ہوتا۔میں نے عمد أسب سے پیچھے مصافحہ کیا اور عرض کیا کہ میرے لئے کیا حکم ہے کیونکہ میں نے ایک شخص کی آگے بیعت کی ہوئی ہے۔آپ نے فرمایا: آپ کی بیعت نور علی نور ہوگی بشرطیکہ وہ شخص نیک ہے ورنہ وہ بیعت فسخ ہو جائے گی اور ہماری بیعت رہ جائے گی۔ایک دفعہ میں نے ۱۸۔اگست ۱۶ء کا ایک واقعہ حضور کی خدمت میں پیش کیا۔وہ ایک لمبا قصہ ہے جو مجھے اپنی ملازمت میں پیش آیا۔یعنی کچھ ایسی تکالیف پیش آئیں جن سے میں استعفاء دینے پر آمادہ ہو گیا۔اس غم میں میں نے اپنے اہل وعیال کو موضع سید کراں تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی میں بھیج دیا۔”میاں کریم بخش صاحب کی مسجد میں جو لاہور واٹر ورکس کے متصل ایک خوبصورت اور وسیع مسجد ہے بعد نماز عشاء اسی فکر میں غرق تھا کہ یکا یک میرے اندر ایک تبدیلی پیدا ہوئی اور ایک غیبی آواز سنائی دی جو یہ تھی۔صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی تکلیف ہو تو وہ کوئی وظیفہ پڑھا کرتا ہے۔تم بھی کوئی وظیفہ پڑھو۔میں کیا وظیفہ پڑھوں۔تم بعد نماز عشاء دس نفل پڑھوا اور تین سو دفعہ درود شریف پڑھو۔اس کے بعد وہ کیفیت جاتی رہی۔لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے ایسی توفیق دی کہ اس وقت سے میں نے دس نفل اور تین سو درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔اور کچھ مدت اس پر عمل کرنے کے بعد میری تمام ملازمت کی تکالیف جاتی رہیں۔یہ واقعہ جب میں نے حضرت مسیح موعود کے حضور عرض کیا تو آپ نے فرمایا اس کے ساتھ تین سو مرتبہ استغفار کا اضافہ کرلو۔“ ☆☆☆ ایک دفعہ میں حاضر خدمت ہوا۔اور خلوت میں ملنے کا موقعہ ملا۔ایک ضرورت درپیش تھی۔میں نے عرض کیا