لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 88
88 امرت سر کے قریب حنفیوں اور وہابیوں کا مناظرہ تجویز ہو گیا۔میں اس مناظرہ میں وہابیوں کی طرف سے پیش ہوا۔حنفی مناظر نے کسی موقعہ پر کہہ دیا کہ فلاں امام نے یوں کہا ہے۔میں نے اسے کہا امام کیا ہوتا ہے۔جب رسول کریم اللہ یوں فرماتے ہیں تو پھر کسی امام کا کیا حق ہے کہ اس کے خلاف بات کرے۔بس میرا یہ کہنا تھا کہ سب نے سونٹے اٹھا لئے اور مجھے مارنے کے لئے دوڑے میں نے بھی جوتیاں اٹھا ئیں اور وہاں سے بھاگ پڑا۔اور ہمیں میل تک برابر بھاگتا چلا گیا۔یہاں تک کہ شہر میں آکر دم لیا۔اس کے بعد میں نے تو بہ کی کہ اب کبھی بحث نہیں کروں گا۔غرض بہت ہی مخلص آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود کو ان کی وفات کی نسبت الہام بھی ہوا تھا اور آپ نے ان کا بہت لمبا جنازہ پڑھایا تھا۔ان کے اندر علم کا اس قدر شوق تھا کہ میں نے کسی میں نہیں دیکھا۔بڑھاپے میں جبکہ ۷۵ سال ان کی عمر تھی۔وہ کلرکوں کو پکڑتے تھے اور کہتے تھے اگر تمہیں دین کا کچھ شوق ہو تو میں تمہیں پڑھانے کے لئے تیار ہوں۔ان کے چہرے پر کچھ تردد کے آثار دیکھتے تو کہتے۔میں پیسے نہیں لوں گا مفت پڑھا دوں گا۔پھر کچھ تر درد یکھتے تو کہتے۔آپ کو تکلیف دو کرنے کی ضرورت نہیں میں خود آپ کے گھر پر پڑھانے کے لئے آجایا کروں گا۔مجھے ایک دفعہ چھ مہینے تک بخار رہا۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے مشورہ دیا کہ مجھے پہاڑ پر بھجوایا جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے مجھے شملے بھجوا دیا۔اس وقت ان کی عمر پچھتر سال کے قریب تھی۔ایک غیر احمدی کلرک تھا۔جس کو انہوں نے پڑھانا شروع کیا تھا۔اس کی شملہ تبدیلی ہوئی تو مولوی صاحب اپنے خرچ پر ہی شملہ چلے گئے۔تا کہ اس کی پڑھائی میں حرج واقعہ نہ ہو۔روٹی اپنے پلے سے کھاتے اور اسے مفت پڑھاتے رہتے۔ان کے اندرا خلاص بھی اس قدر تھا کہ جب ہم سیر کے لئے نکلتے تو وہ ہمارے ساتھ چل پڑتے۔ایک لمبا سونٹا ان کے ہاتھ میں ہوا کرتا تھا۔چونکہ وہ بوڑھے تھے اور پہاڑ کی چڑھائی میں انہیں دقت پیش آتی تھی۔اس لئے ہم پر یہ سخت گراں گذرتا کہ وہ تکلیف اٹھا کر التزاماً ہمارے ساتھ آتے ہیں۔ایک دن میں نے خان صاحب منشی برکت علی صاحب اور مولوی عمر ین صاحب شملوی سے کہا کہ یا تو آئندہ گھر میں بیٹھ جاؤں گا اور سیر کے لئے نہیں نکلوں گا یا