لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 74 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 74

74 اقدس کو یہ پرانا عارضہ تھا اور گاہے گاہے اسہال کی شکایت ہوتی رہتی تھی۔چنانچہ جب جنازہ اسٹیشن پر پہنچا تو ریلوے حکام نے اس جھوٹی رپورٹ کی بناء پر یہ اعتراض کیا کہ ہمیں رپورٹ پہنچی ہے کہ ( حضرت ) مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی ہے اس لئے گاڑی نہیں دی جاسکتی۔مگر جب معالج ڈاکٹر کا سر ٹیفکیٹ پیش کیا گیا تو اجازت دیدی اور جنازہ سیکنڈ کلاس کی گاڑی میں جو ریز رو کرائی گئی تھی رکھوا دیا گیا۔معاندوں کی ایک اور مذموم حرکت معاندوں نے جنازے کی روانگی کے بعد ایک مذموم حرکت یہ کی کہ اپنوں میں سے کسی کا منہ کالا کر کے اس کو چار پائی پر لٹا کر فرضی جنازہ تیار کیا اور اسے اٹھا کر ” ہائے ہائے مرزا ” ہائے ہائے 9966 مرزا‘‘ کا شور کرتے ہوئے موچی دروازہ سے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوئے۔ان کی یہ حرکات جس قسم کی تھیں ہر وہ شخص جس کو ذرا بھی شرافت کا احساس ہو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔احمدیوں نے ان کی ان تمام لغویات پر صبر سے کام لیا اور ان کی طرف سے کوئی بات ایسی نہ ہوئی جو قابل گرفت ہوتی بحالیکہ اس رنج وغم کی حالت میں مخالفین کا یہ رویہ جس قدر دلخراش اور اشتعال انگیز تھا محتاج بیان نہیں۔یہ تھے ان لوگوں کے افعال جو اسلام کے نام پر حضرت اقدس کی مخالفت کرنے والے تھے۔ہم اس موقعہ پر نہ تو مخالفین کی ان حرکتوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے۔البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے والے خود فیصلہ کر لیں گے کہ اس وقت حضرت اقدس کے مسلمان کہلانے والے مخالفوں نے جو مظاہرہ کیا وہ اسلامی تعلیم، شرافت بلکہ انسانیت کیلئے کس درجہ باعث ننگ و عار تھا۔جنازہ قادیان پہنچایا گیا اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت اقدس کی نعش مبارک سیکنڈ کلاس کے ایک ریز روڈ بہ میں رکھوا دی گئی تھی۔گاڑی لاہور سے پونے چھ بجے شام روانہ ہوئی اور دس بجے رات کو بٹالہ پہنچی۔جنازہ گاڑی میں رہا جس کی حفاظت کے لئے خدام پاس رہے۔دو بجے رات نعش مبارک صندوق سے باہر نکالی گئی اور ایک چار پائی پر رکھ کر خدام نے جنازہ کندھوں پر اٹھا لیا۔صبح آٹھ بجے کے قریب ۱ امیل کا سفر طے کر