لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 73
73 کرتوت کا مظاہرہ کیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ طبقہ اپنے رہنماؤں کی اقتداء میں اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں جمع تھا اور اس کے افراد گندے نعرے لگاتے اور غلیظ گالیاں دیتے ہوئے حملہ آواروں کی صورت میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کی طرف جس میں حضرت اقدس کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی، بڑھتے اور پسپا ہوتے تھے اور ان کے انداز سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایسے ارادے رکھتے ہیں جو کسی قوم کے ادنیٰ سے ادنی اور ذلیل سے ذلیل افراد سے بھی سرزد ہونا مشکل ہیں۔تجهيز وتلفين احمدی احباب علاوہ اس طوفان بے تمیزی کو روکنے کے حضرت اقدس کی نعش مبارک کو قادیان لے جانے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔دن میں دو اور تین بجے کے درمیان بڑی کوشش کے بعد فسل دینے اور کفنانے سے فراغت ہوئی۔اس کے بعد جنازہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب مرحوم کے مکان کی اوپر کی منزل سے نیچے صحن میں لایا گیا اور حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور یہ حضور کی پہلی نماز جنازہ تھی جو لاہور میں ہی ادا کی گئی۔مخالفین نے علاوہ طرح طرح کی لغویات اور خلاف انسانیت حرکات کے لئے یہ بھی کیا کہ ریلوے افسران کو یہ جھوٹی خبر پہنچائی کہ (حضرت) مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی ہے۔یہ حرکت اس غرض کو مدنظر رکھ کر تھی کہ ہیضہ سے فوت ہو جانے والے کی نعش کا ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا متعدی بیماری ہونے کی وجہ سے ریلوے قانون کے خلاف تھا۔مخالفین چاہتے تھے کہ نعش مبارک قادیان کو نہ لے جائی جاسکے اور یہاں تدفین میں جس قسم کی دقتیں وہ ڈالنا چاہتے تھے، جی کھول کر ڈال سکیں۔مخالفوں کی اس شرارت کا احمدیوں کو بھی علم ہو چکا تھا۔اس لئے مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم پرنسپل میڈیکل کالج لاہور کے پاس گئے جو آخر وقت میں حضرت اقدس کے علاج کے لئے بلائے گئے تھے اور ان سے اس کا رروائی کا جو مخالفین نے کی۔اظہار کیا اور چاہا کہ جس مرض سے حضرت اقدس کی وفات ہوئی ہے۔ڈاکٹر صاحب اس کے متعلق سر ٹیفکیٹ دیں۔چنانچہ انہوں نے یہ سر ٹیفکیٹ دیا کہ آپ کی وفات ہیضے سے ہر گز نہیں بلکہ اعصابی تکان کے دستوں سے ہوئی ہے اور حقیقت بھی یہی تھی کہ حضرت