لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 72 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 72

72 اہل بیت کا صبر حضرت ام المومنین علیہا السلام نے صبر کا جو نمونہ دکھایا۔اس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بھی نہایت ہی صبر کے ساتھ اس صدمہ کو برداشت کیا اور بجز یاحی یا قیوم کے اور کوئی کلمہ آپ کی زبان سے نہیں نکلا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب بھی باوجود اس سخت صدمہ کے نہایت استقامت اور استقلال کے ساتھ ضروری امور کے انتظام میں مصروف رہے۔احباب جماعت کو اچانک وفات کا صدمہ حضور کے وصال کی خبر آنا فانا تمام شہر میں پھیل گئی۔مگر چونکہ حضور ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء تک با قاعدہ اپنے تصنیف کے محبوب مشغلہ میں مصروف رہے اور اس روز قبل شام حسب معمول سیر کے لئے بھی تشریف لے گئے تھے۔اس لئے باہر کے احباب تو الگ رہے لاہور کے احمدیوں کو بھی حضور کے وصال کا یقین نہیں آتا تھا اور وہ یہ دعائیں کرتے کرتے احمد یہ بلڈنگس میں جمع ہو رہے تھے کہ خدا کرے یہ افواہ غلط ہو۔مگر جب احمد یہ بلڈ نگکس میں پہنچتے تھے تو اس افواہ کو حقیقت پر مبنی سمجھ کر دنیا ان کی نگاہوں میں تیرہ و تار ہو جاتی تھی اور وہ شدت غم سے دیوانوں کی طرح نظر آتے تھے۔جولوگ حضرت اقدس کے خاص تربیت یافتہ تھے۔گوان کی آنکھیں بھی اشکبار تھیں مگر وہ وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جذبات کو روکے ہوئے تھے اور حضرت اقدس کے وصال کے بعد جو ذمہ داریاں ان پر عاید ہوتی تھیں ان کے انجام دینے میں مصروف تھے۔مخالفوں کی حالت یہ تو اہل جماعت کا حال تھا۔رہے غیر از جماعت تو وہ دوحصوں میں منقسم تھے۔ایک حصہ جو شریف طبقہ سے متعلق تھا۔ان کو تو حضرت اقدس کی وفات پر بلحاظ آپ کے اسلامی جرنیل ہونے کے رنج وقلق تھا اور ان میں سے ایک خاصی تعداد حضور کا آخری دیدار اور اظہار غم و ہمدردی کے لئے احمدیہ بلڈنکس میں آ گئی۔اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزا دے۔دوسرا طبقہ جو پہلے طبقہ کی ضد تھا اس نے ایسی