لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 71
71 صبح کی نماز کا وقت ہوا تو اس وقت جب کہ خاکسار مؤلف (یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔ناقل ) بھی پاس کھڑا تھا۔نحیف آواز میں فرمایا ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ ایک خادم نے عرض کیا۔ہاں حضور ہو گیا ہے۔اس پر آپ نے بسترے کے ساتھ دونوں ہاتھ تیتیم کے رنگ میں چُھو کر لیٹے لیٹے ہی نماز کی نیت باندھی مگر اسی دوران میں بیہوشی کی حالت ہو گئی۔جب ذرا ہوش آیا تو پھر پوچھا ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟“ عرض کیا گیا ہاں حضور ہو گیا ہے۔پھر دوبارہ نیت باندھی اور لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔اس کے بعد نیم بیہوشی کی کیفیت طاری رہی۔مگر جب کبھی ہوش آتا تھا وہی الفاظ اللہ۔میرے پیارے اللہ سنائی دیتے تھے اور ضعف لحظہ بہ لحظہ بڑھتا جاتا تھا۔آخر دس بجے صبح کے وقت نزع کی حالت پیدا ہوگئی اور یقین کر لیا گیا کہ اب بظاہر حالات بیچنے کی کوئی صورت نہیں۔اس وقت تک حضرت والدہ صاحبہ نہایت صبر اور برداشت کے ساتھ دعا میں مصروف تھیں اور سوائے ان الفاظ کے اور کوئی لفظ آپ کی زبان پر نہیں آیا تھا کہ ” خدایا ! ان کی زندگی دین کی خدمت میں خرچ ہوتی ہے تو میری زندگی بھی ان کو عطا کر دے، لیکن اب جب کہ نزع کی حالت پیدا ہوگئی تو انہوں نے نہایت در دبھرے الفاظ سے روتے ہوئے کہا ” خدایا ! اب یہ تو ہمیں چھوڑ رہے ہیں لیکن تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔آخر ساڑھے دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دو لمبے لمبے سانس لئے اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے ابدی آقا اور محبوب کی خدمت میں پہنچ گئی۔انـا لـلـه وانا اليه راجعون۔كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاکرام۔۵۳ آپ کی عمر وصال کے وقت آپ کی عمر اپنے ایک مشہور الہام ثمانين حولاً او قريباً من ذلك أو تزيد علیه سنيناً ۵۴ کے حساب سے ۷۴ اور قمری حساب سے ۷۶ سال کی تھی۔