لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 69 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 69

69 حضور نے اس کی کوئی تاویل نہیں فرمائی۔یکے بعد دیگرے اس قسم کے الہامات دیکھ کر حضرت ام المومنین علیہا السلام نے ایک دن گھبرا کر عرض کی کہ اب قادیان واپس چلیں۔فرمایا ” اب تو ہم اس وقت چلیں گے جب خدا لے جائے گا حضور ان ایام میں پیغام صلح کی تقریر لکھنے میں مصروف تھے۔اس الہام کے بعد تقریر کے لکھنے میں حضور نے زیادہ کوشش اور تیزی اختیار فرمائی۔آخر کار چھپیں مئی کی شام کو یہ مضمون قریباً مکمل کر کے کاتب کے سپر د فر ما دیا۔قرآئن سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے یہ سمجھ کر کہ یہ مضمون لکھنے کے لئے پھر شاید موقعہ نہ ملے اپنے بقیہ نوٹوں پر کچھ لکھنا ملتوی فرما کر جتنا لکھا جا چکا تھا وہ کا تب کے حوالے کر دیا۔عصر کی نماز کے بعد حضور نے وفات مسیح علیہ السلام پر ایک مختصری تقریر کی جو حضور کی آخری تقریر تھی۔اس تقریر میں فرمایا کہ د عیسی کو مرنے دو کہ اس میں اسلام کی حیات ہے۔ایسا ہی عیسی موسوی کی بجائے عیسی محمدی کو آنے دو کہ اس میں اسلام کی عظمت ہے۔ا اور پھر حسب معمول سیر کیلئے باہر تشریف لائے۔کرایہ کی ایک گاڑی حاضر تھی۔حضور نے اپنے ایک مخلص مرید حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی سے فرمایا: ” میاں عبدالرحمن ! اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک روپیہ ہے۔وہ ہمیں صرف اتنی دُور تک لے جائے کہ ہم اس روپے کے اندر گھر واپس پہنچ جائیں“۔۵۲ چنانچہ حضور کے اس حکم کی تعمیل کی گئی اور آپ ہوا خوری کر کے واپس تشریف لے آئے۔اس وقت حضور کو کوئی خاص بیماری نہیں تھی۔صرف مسلسل مضمون لکھنے کی وجہ سے کسی قد رضعف تھا اور غالباً آنے والے مخفی اثر کے ماتحت ایک گونہ ر بودگی اور انقطاع کی کیفیت طاری تھی۔آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں اور پھر تھوڑا سا کھانا تناول فرما کر آرام کے لئے لیٹ گئے۔اس کے بعد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اپنی کتاب ”سلسلہ احمدیہ میں لکھتے ہیں۔