لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 62
62 یہ حضور کے وصال کی گھڑی کے قریب آجانے کا بالکل واضح اشارہ تھا۔مگر حضور نہایت استقلال کے ساتھ اپنے کام میں منہمک رہے اور کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں فرمایا۔البتہ انبیاء کی سنت کے مطابق حضور نے اس الہام کو ظاہری طور پر پورا کرنے کے لئے اپنی جائے قیام کو بدل لیا اور فرمایا کہ یہ بھی ایک قسم کا کوچ ہی ہے مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔پس آپ خواجہ صاحب کے مکان سے منتقل ہو کر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں تشریف لے گئے۔چند دن بعد جو قادیان سے ایک مخلص احمدی با بوشاہدین صاحب اسٹیشن ماسٹر کی وفات کی خبر پہنچی تو لوگوں کی توجہ اس طرف منتقل ہو گئی کہ شاید کوچ والے الہام سے بابو صاحب کی طرف ہی اشارہ تھا۔مگر قرائن سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت اقدس کو خوب پتہ تھا کہ یہ الہام حضور کے متعلق ہے۔ہے۔مختلف الخیال لوگوں کی حضور سے ملاقاتیں جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے حضور علیہ السلام کی لاہور میں آمد پر زائرین کا تانتا بندھ گیا تھا۔ان ملاقاتیوں میں سے بعض اہم شخصیتیں ایسی بھی تھیں جنہوں نے ایسے سوالات پیش کئے جن کا ذکر فائدہ سے خالی نہیں ہو گا۔چنانچہ ایک صاحب پروفیسر کیمنٹ ریگ تھے جو انگلستان کے مشہور سیاح اور ہیئت دان تھے۔یہ صاحب ریلوے اسٹیشن کے قریب علم ہیئت پر میجک لینٹن کے ذریعہ لیکچر دے رہے تھے کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا وہاں سے گذر ہوا۔لیکچر سننے کے بعد حضرت مفتی صاحب نے ان سے ملاقات کی اور حضرت اقدس کے دعاوی اور دلائل سے انہیں آگاہ کیا۔مفتی صاحب کی تقریر کا پروفیسر صاحب پر اس قدراثر ہوا کہ انہوں نے حضور سے ملاقات کا شوق ظاہر کیا۔چنانچہ انہوں نے اور ان کی میم صاحبہ نے دومرتبہ احمد یہ بلڈنکس میں آ کر حضرت اقدس سے ملاقات کی اور جن سوالات کا تسلی بخش جواب وہ کہیں سے بھی حاصل نہ کر سکے تھے خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے حضرت اقدس سے ملاقات کے نتیجہ میں انہیں اپنے سوالوں کے تسلی بخش جوابات مل گئے اور وہ حضور کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے یہ کہہ کر رخصت ہوئے کہ : وو ” مجھے اپنے سوالات کا جواب کافی اور تسلی بخش ملنے سے بہت خوشی ہوئی اور مجھے ہر طرح سے اطمینان کامل حاصل ہو گیا اور یہ اطمینان دلانا خدا کے نبی کے سوا کسی میں