لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 59
59 ولایت کے مشہور ماہنامہ ریویو آف ریویوز نے لکھا: راقم مضمون بہت سی قرآن مجید کی آیات حوالہ میں پیش کرتا ہے جن کی بابت اس کا دعوی ہے کہ وہ تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لاویں جن کو دنیا کے کثیر حصہ نے قبول کر لیا ہے یہ تحمل کا بہت وسیع اصل اور قاعدہ ہم اپنے آزاد خیال عیسائی بھائیوں کے سامنے بطور سفارش پیش کرتے ہیں۔در حقیقت یہ ایک بالکل نئی بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ مذہب جواب تک تمام مذہبوں سے زیادہ متعصب اور غیر متحمل خیال کیا گیا تھا۔اپنے تمام دشمنوں اور مقابل کے لوگوں کے مشن کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے۔۳۶ اس کے مقابل میں آریوں نے جس درندگی اور بے باکی سے پاکوں کے سردار حضرت محمد مصطفی امیہ کے خلاف زبان طعن دراز کی۔اس سے مسلمانوں کے جگر چھلنی ہو گئے اور غصہ سے ان کا خون کھولنے لگا اور اگر حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی طرف سے بار بارصبر وتحمل سے برداشت کرنے کی تلقین نہ ہوتی تو قریب تھا کہ اس مجلس میں خون کی ندیاں بہہ نکلتیں۔بایں ہمہ جب اس جلسہ کی کارروائی کی اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچی تو حضور شر کا ء جلسہ خصوصاً حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب پر سخت ناراض ہوئے۔اور بار بار جوش کے ساتھ فرمایا کہ جس مجلس میں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا گیا اور گالیاں دی گئیں تم اس مجلس میں کیسے بیٹھے رہے اور کیوں نہ خود اٹھ کر باہر چلے آئے ؟ تمہاری غیرت نے کس طرح برداشت کیا کہ تمہارے آقا کو گالیاں دی گئیں اور تم خاموش بیٹھے سنتے رہے؟ اور پھر آپ نے بڑے جوش کے ساتھ یہ قرآنی آیت پڑھی کہ اذا سمعتم ايات الله يكفربها ويُستهزء بها فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حدیثِ غيره ۳۷ یعنی اے مومنو! جب تم سنو کہ خدا کی آیات کا دل آزار رنگ میں کفر کیا جاتا اور ان پر ہنسی اڑائی جاتی ہے تو تم ایسی مجلس سے فوراً اٹھ جایا کرو تا وقتیکہ یہ لوگ کسی مہذبانہ گفتگو کو اختیار کریں۔۳۸ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمد احد صاحب خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا بیان