لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 593
593 دین کی توفیق دے اور انہیں روح القدس کی نصرت سے نوازے۔آمین یا ارحم الراحمین۔یا درکھنا چاہئے کہ لائحہ عمل تجویز کرنا بے شک ضروری ہے اور مفید ہے۔اس کے ذریعہ انسان کی خدمت اور اس کی طریق کار کا دائرہ معین صورت اختیار کر لیتا ہے۔اور وہ ادھر ادھر بھٹکنے سے بچ جاتا ہے اور اس کی توجہ ایک خاص نقطہ پر مرکوز ہو کر بہترین نتائج پیدا کرتی ہے۔لیکن لائحہ عمل سے بھی زیادہ اہم کام کرنے والوں کی صلاحیت اور اہلیت کا سوال ہے۔بہتر سے بہتر لائحہ عمل خراب کام کرنے والوں کے ذریعہ نا کام ہوسکتا ہے۔اور یا د رکھنا چاہئے کہ اچھے کارکنوں میں پانچ بنیادی اوصاف کا پایا جانا ضروری ہے۔اول محنت کی عادت، دوم مستقل مزاجی، سوم اخلاص، چہارم قربانی اور پنجم دیانتداری کا جذبہ۔وو یہ پانچ باتیں تو دنیا کے میدان سے تعلق رکھتی ہیں مگر ان سے بھی بڑھ کر خدائی جماعتوں کے لئے تقویٰ اور للہیت کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔تقویٰ دینداری اور عمل صالح کی روح کا نام ہے اور للہیت سے مراد ہے کہ ہر کام میں خدا کی رضا مقصود ہو۔اگر ا چھے لائحہ عمل کے ساتھ کام کرنے والوں میں یہ باتیں پیدا ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کی کامیابی اور ترقی میں روک نہیں بن سکتی۔پس اس کی طرف خاص بلکہ خاص الخاص توجہ کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ نئی پود یعنی اطفال کی تربیت کا سوال نہایت اہم ہے کیونکہ اطفال کا وجود خدام کے لئے نرسری کی حیثیت رکھتا ہے اور اچھی نرسری کے بغیر کبھی بھی اچھا باغ تیار نہیں ہوسکتا۔پس خدام الاحمدیہ کو چاہئے۔کہ چھوٹی عمر کے بچوں کی تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ دیں اور ان کے اندر محنت اور دیانت داری اور راست گفتاری اور خلیفہ وقت اور مرکز کے ساتھ محبت کا جذبہ پیدا کریں۔یہ وہ اٹھتے ہوئے پودے ہیں۔جنہوں نے کل کو شمر دار درخت بننا ہے اور قوموں کی رفتار ترقی کو بچوں کی صحیح دیکھ بھال کے بغیر برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔باقی رہا موجودہ لائحہ عمل کا سوال۔سو کام شروع کرنے کی غرض سے وہ مناسب ہے۔آگے چل کر عملی تجربہ کے نتیجہ میں اس لائحہ عمل میں مزید اصلاح اور توسیع کا رستہ کھلتا چلا