لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 592
592 قیمتی وجود ہیں اور سلسلہ کی خاطر جان، مال اور عزت ہر قسم کی قربانیوں کے لئے تیار رہتے ہیں۔مورخہ ۱۴ - دسمبر ۱۹۶۰ء کو بوقت آٹھ بجے صبح اچانک فالج کے حملہ کی وجہ سے بیمار ہو گئے۔فالج کا حملہ بائیں جانب ہوا جس کا اثر آج جبکہ اس حملہ پر قریباً ساڑھے پانچ سال گذر چکے ہیں برابر چلا آ رہا ہے۔مگر آفرین ہے اس انسان پر کہ بیماری کے ایام میں بھی خدمت دین کو ایک نعمت عظمی سمجھا۔بیماری کے کچھ عرصہ بعد جب بھی بدن میں ذرا ہمت پیدا ہوئی وکالت تو چھوڑ دی مگر خدمات سلسلہ کو اپنی خوراک سمجھ کر اس میں منہمک رہے۔اس بیماری کے حملہ کی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ جلسہ سالانہ قادیان میں شامل ہونے کے لئے جو قافلہ پاکستان سے قادیان جانے والا تھا آپ کو اس کا امیر مقرر کیا گیا تھا اس قافلہ کی تیاری کیلئے آپ برابر دو دن تک شب روز مصروف رہے اور در حقیقت آپ کی یہ مصروفیت صرف دو دن سے نہیں تھی بلکہ اس سے پہلے ہائیکورٹ کی طرف سے مقدمات کے فیصلوں پر مشتمل جو رسالہ نکلتا ہے اس کے چونکہ آپ ایڈیٹر تھے اس لئے متواتر کئی دن اس رسالہ کے لئے محنت شاقہ کرنا پڑی۔کچھ مقدمات بھی ان ایام میں زیادہ تھے۔جن کی تیاری میں کافی کام کرنا پڑا۔اس پے در پے محنت اور مشقت کو آپ کا جسم برداشت نہ کر سکا اور آپ مین قافلہ قادیان کی روانگی کے دن فالج کے حملہ کا شکار ہو گئے۔یہ حملہ ۳۲- ایلگن روڈ لاہور چھاؤنی والی کوٹھی میں ہوا جو آپ نے ابھی نئی نئی خریدی تھی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔اور آپ پہلے کی طرح مردانہ وار خدمات دینیہ میں مصروف نظر آ ئیں۔آمین حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام خدام الاحمدیہ لاہور کے نام 1941ء میں مجلس خدام الاحمدیہ نے ایک لائحہ عمل مرتب کر کے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں بغرض ملاحظہ وراہنمائی پیش کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے بعد ملا حظہ مجلس خدام الاحمدیہ کو وارشاد فرمایا وہ چونکہ زریں نصائح پر مشتمل ہے۔اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں درج کیا جاوے۔آپ فرماتے ہیں : میں نے مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کا لائحہ عمل اور طریق کار سرسری نظر سے دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے لاہور کے خدام کو اپنی رضا کے ماتحت بہترین خدمت