لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 589
589 کامیاب مناظر و مقرر تھے۔غیر احمدی و غیر مسلم علماء سے متعدد مناظرات کئے۔اور اس میدان میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا مقام اور رعب عطا فر مایا تھا کہ بڑے بڑے نامی مخالف مناظر میدان مناظرہ میں آپ کے مقابل پر آنے سے خم کھاتے تھے۔محترم خادم صاحب کو اللہ تعالیٰ نے تحریر و تقریر کا خاص ملکہ ودیعت کیا تھا اور آپ نے عمر بھر اپنی خدا داد صلاحیتوں کو سلسلہ کی خدمت کیلئے وقف رکھا۔تبلیغی میدان میں آپ کی مرتب کردہ تبلیغی پاکٹ بک آپ کا ایک زندہ جاوید کارنامہ ہے۔غیر مبائعین کے لئے آپ لاریب بطل جلیل تھے۔اور عمر بھر اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے سینہ سپر رہے۔۱۹۵۳ء کے فسادات پنجاب کے سلسلہ میں تحقیقاتی عدالت میں آپ نے جماعت کی خاص خدمات سرانجام دیں۔سلسلہ کے ساتھ والہانہ عقیدت اور مسلسل خدمات کی بناء پر سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ کو ” خالد کے خطاب سے نوازا تھا۔خادم صاحب مرحوم ایک عرصہ سے بیمار تھے مگر اوائل دسمبر ۱۹۵۷ء سے طبیعت بہتر ہونا شروع ہو گئی حتی کہ جلسہ سالانہ سے دور روز قبل جب خاکسار ملنے کے لئے ہسپتال میں گیا تو آپ ہشاش بشاش تھے اور امید رکھتے تھے کہ وہ جلسہ سالانہ میں بھی شمولیت اختیار کر سکیں گے۔مگر دوسرے ہی دن بیماری نے پیچیدہ صورت اختیار کر لی اور ۳۱ دسمبر ۱۹۵۷ء کو آپ اچانک دل کے عارضہ میں مبتلا ہو گئے حتی کہ اسی روز اڑھائی بجے بعد دو پہر مولی حقیقی سے جاملے اور ہمارا یہ محبوب بھائی ہم سب کو سوگوار وحزیں بنا کر داغ مفارقت دے گیا۔انا لله و انا اليه راجعون۔آپ سالہا سال تک ضلع گجرات کی احمدی جماعتوں کے امیر رہے۔آپ کو یکم جنوری ۱۹۵۸ء کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی روٹری کلب میں تقریرے۔جنوری ۱۹۵۸ء محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب جب بھی مرکز ربوہ میں تشریف لاتے ہیں۔اہل لا ہور کو بھی عموماً اپنے خطابات سے نوازنے کا شرف عطا فرماتے ہیں۔۷۔جنوری ۱۹۵۸ء کو آپ نے روٹری کلب میں تقریر کرتے ہوئے بے غرضانہ خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔آپ نے فرمایا۔اگر روٹری کلب کے ممبران اس مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کر لیں تو زندگی زیادہ