لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 585
585 اور ایک ٹوکری جلیبیوں کی ساتھ کر دی اور فرمایا کہ بچے کے لئے ہے راستہ میں کھالے گا۔ایک دفعہ شیخ نور احمد صاحب بیمار ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب سے علاج کیلئے قادیان گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کی۔اللہ نے شفادی آپ نے اگر چہ بیعت نہ کی مگر مخالفت بھی کبھی نہیں کی۔حضرت حکیم فضل حق صاحب کی بیعت پر بھی اعتراض نہ کیا بلکہ ہمیشہ بیٹے کی عزت کرتے رہے۔شیخ نور احمد صاحب نے اپنی وفات سے پہلے ایک بیٹی کی نسبت بٹالہ کے ایک معزز غیر احمدی خاندان میں کی ہوئی تھی۔ان کی وفات کے بعد حکیم فضل حق صاحب نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ اب اپنی بہن کا ولی میں ہوں اس لئے اس کا رشتہ احمدیوں کے ہاں کروں گا۔چنانچہ وہی لڑکی پھر محترم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کے ساتھ بیاہی گئی۔اسی قسم کا واقعہ حکیم صاحب کی بڑی لڑکی کے متعلق بھی ہوا۔حکیم صاحب کے غیر احمدی خسر نے ایک معزز غیر احمدی خاندان میں اس کے رشتہ کے لئے سلسلہ جنبانی شروع کر رکھا تھا۔اس کا رشتہ بھی حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کے ایماء پر آپ نے حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ مغربی افریقہ کے ساتھ کر دیا۔مرحوم پر وفات سے ایک ہفتہ قبل یک لخت فالج کا حملہ ہوا۔جو جان لیوا ثابت ہوا۔انا للہ و انا اليه راجعون۔لعش ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں دفن کی گئی۔۱۶۲ عزیزہ عائشہ صادقہ کا اعلان نکاح ۲۹ - دسمبر ۱۹۵۵ء مورخہ ۲۹ - دسمبر ۱۹۵۵ء کو خاکسار (مؤلف کتاب ہذا) کی بچی عزیزہ عائشہ صادقہ کا نکاح حضرت سیدنا امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار روپیہ مہر پر عزیزم خالد ہدایت صاحب بھٹی بی۔اے حال مینیجر نیشنل بنک گجرات ابن محترم قاضی عطاء اللہ صاحب مرحوم سکنہ لا ہور کے ساتھ پڑھا۔۱۳ حضرت صاحبزادہ مرز امظفر احمد صاحب کا آپریشن۔۱۶ - مارچ ۱۹۵۶ء حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب بیمار تھے۔کرنل ڈاکٹر ملک بشیر احمد صاحب ڈائریکٹر