لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 586 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 586

586 آف پبلک ہیلتھ مغربی پاکستان نے پتہ کا آپریشن تجویز کیا۔چنانچہ ۱۶- مارچ ۱۹۵۶ء کو میوہسپتال لاہور کے حصہ موسومہ البرٹ وکٹر ہسپتال میں ڈاکٹر امیر الدین صاحب سینیئر سرجن نے حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کے پستہ کا آپریشن کیا اور سارا پتہ معہ پتھری کے نکال دیا۔آپریشن خدا کے فضل سے کامیاب ہوا۔آپریشن کے بعد ڈاکٹر امیر الدین صاحب نے بتایا کہ پتہ میں پیپ پڑ چکی تھی اور اگر آپریشن میں مزید تاخیر کی جاتی تو خطرہ کی صورت پیدا ہو جاتی۔پتھری بھی کافی بڑی ہو چکی تھی۔آپریشن کے وقت ڈاکٹر امیر الدین صاحب اور ان کے نائبین کے علاوہ ڈاکٹر غلام بھیک صاحب سول سرجن لا ہور اور ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب اور ڈاکٹر ملک عبدالحق صاحب اور صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب بھی موجود تھے۔حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب' چوہدری اسد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور، شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ، میاں غلام محمد صاحب اختر اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے افراد اور بہت سے دیگر احمدی احباب ہسپتال پہنچے ہوئے تھے۔آپریشن کے بعد صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو بے ہوشی کی حالت میں سٹریچر پر ڈال کر ان کے کمرہ میں لایا گیا جہاں قریباً دو گھنٹہ بعد انہیں ہوش آیا۔مگر شام تک طبیعت کافی کمزور رہی اور آپریشن کے مقام پر درد بھی محسوس ہوتی رہی اور تین چار دفعہ قے بھی ہوئی مگر عام حالت خدا کے فضل سے تسلی بخش رہی۔۱۶۴ حضرت اقدس کی لاہور میں تشریف آوری ۲ اپریل ۱۹۵۶ء ۲ اپریل ۱۹۵۶ء کو حضرت اقدس امیر المومنین لاہور پہنچے۔شوری کے کام کی وجہ سے حضور کو کوفت تھی۔راستہ میں بھی اور لاہور پہنچ کر بھی طبیعت مضحل رہی۔ظہر وعصر کی نماز میں حضور نے جمع کر کے پڑھائیں اور اس کے بعد کافی دیر تک خدام میں رونق افروز رہے۔قریباً چھ بجے شام حضور مکرم محترم نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔بعد نماز مغرب سوا سات بجے حضور محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی صاحبزادی کے رخصتانہ میں دعا کے لئے تشریف لے گئے۔