لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 578 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 578

578 عازم کراچی ہوئے وہاں آپ کو یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات کا صدر مقرر کیا گیا۔گورنمنٹ کالج کے طلباء ممبران سٹاف، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران دوست احباب اور عقیدت مند حضرات کے ایک کثیر مجمع نے لا ہور ریلوے اسٹیشن پر آپ کو پُر خلوص جذبات اور دلی دعاؤں کے ساتھ الوداع کہا اور بکثرت پھولوں کے ہار پہنائے۔آپ کو الوداع کہنے والوں میں ڈائریکٹر محکمہ تعلیم پنجاب پروفیسر سراج الدین صاحب گونمنٹ کالج کے نئے پرنسپل خواجہ منظور احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور چوہدری اسد اللہ خاں صاحب اور شیخ بشیر احمد صاحب سینئر ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف پاکستان کے اسماء خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مکرم قاضی محمد اسلم صاحب جن کی عمران ایام میں چون سال کی تھی۔۱۹۲۱ء سے گورنمنٹ کالج لاہور کے ساتھ وابستہ چلے آتے تھے۔آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم۔اے کرنے کے بعد کیمبرج یونیورسٹی سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔تعلیم و تدریس کے تئیس سالہ عرصہ میں آپ کی تو جہات فلسفہ اور نفسیات کے مضمون کو ترقی دینے کے لئے وقف رہیں۔آپ ۱۹۳۹ء میں گورنمنٹ کالج کے شعبہ فلسفہ و نفسیات کے صدر مقرر ہوئے۔جہاں تک کالج اور یو نیورسٹی کو فلسفہ کے میدان میں اعلی بنیا دوں پر قائم کرنا اور اسے ترقی دینے کا تعلق ہے۔محترم قاضی صاحب کا اس میں بہت بڑا دخل ہے۔شعبہ نفسیات کی وسعت اور اس کی موجودہ ترقی پذیر حالت جس پر ایک لاکھ سے زائد روپیہ صرف ہوا ہے تمام تر آپ ہی کی مساعی جمیلہ کی رہین ہے۔پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب کا پنجاب یونیورسٹی سے سینئر ترین پروفیسروں اور ماہرین تعلیم میں شمار ہوتا تھا۔اس عرصہ میں آپ ڈائریکٹر محکم تعلیم پنجاب اور سیکرٹری حکومت پنجاب کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔پھر ملک کے تعلیمی مسائل پر غور کرنے کے لئے مرکز نے جو تعلیمی کانفرنس طلب کی آپ نے اس میں پنجاب کے ماہرین تعلیم کے وفد کی قیات کی۔آپ کے زما نہ تعلیم و تدریس میں جن طلباء نے فارغ التحصیل ہو کر زندگی میں قدم رکھا ہے ان میں سے اکثر کو قومی یونیورسٹیوں افواج کے انتخابی بورڈ اور پبلک سروس کمیشن وغیرہ میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔" یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کے خلیفتہ المسیح بن جانے کے بعد آپ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے پرنسپل مقر ر ہوئے ہیں۔