لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 572
572 ☆ مدرس قتل کر دیا گیا تھا۔۶ مارچ کو ایک احمدی محمد شفیع بر ما والا مغلپورہ میں ہلاک کر دیا گیا اور کالج کے ایک احمدی طالب علم (میاں جمال احمد صاحب ابن مستری نذرمحمد صاحب) کو بھائی دروازہ کے اندر لوگوں نے چھرے مار مار کر قتل کر دیا۔ایک اور احمدی ( یا مفروضہ احمدی ) مرزا کریم بیگ کو فلیمنگ روڈ پر چھرا مار دیا گیا اور اس کی نعش ایک چتا میں پھینک دی گئی جوفر نیچر کو آگ لگا کر تیار کی گئی تھی۔احمدیوں کی جو جائداد میں اور دکانیں اس دن لوٹی یا جلائی گئیں۔وہ یہ تھیں۔پاک ریز شفا میڈیکل اور سوکو موسیٰ اینڈ سنز کی دوکان راجپوت سائیکل ورکس، ملک محمد طفیل اور ملک برکت علی چوب عمارتی کے احاطہ اور گودام میسن روڈ پر ملک عبدالرحمن کا مکان اور مزنگ روڈ اور ٹمپل روڈ پر پانچ احمدیوں کے مکان جن میں شیخ نور احمد ایڈووکیٹ کا مکان بھی شامل تھا۔تیسرے پہر ایک ممتاز ایڈووکیٹ مسٹر بشیر احمد امیر جماعت احمد یہ لاہور کا مکان گھیر لیا گیا۔ہجوم اس مکان میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ مسٹر بشیر احمد نے اپنے دفاع میں چند گولیاں چلا ئیں۔ایک خاص فوجی عدالت نے ان کے اس فعل پر مقدمہ چلایا لیکن وہ بری کر دیئے گئے۔4 مارچ کی رات کو عبد الحلیم مالک پایونیر الیکٹرک اینڈ بیٹری سٹیشن کے مکان پر چھاپا مارا گیا اور ان کی بوڑھی والد قتل کر دی گئی۔۱۳۵ او پر مارشل لاء کا ذکر کیا گیا ہے۔مارشل لاء کا لگنا تھا کہ مشتعل ہجوم کے ہوش بحال ہو گئے اور ایک دن میں امن قائم ہو گیا۔ہم ان واقعات کا مفصل ذکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ہاں اتنا ذکر ضروری ہے کہ امن بحال ہو جانے کے بعد حکومت پاکستان نے اس امر کی ضرورت محسوس کی کہ عدالت عالیہ کے دو فاضل جج صاحبان سے ان سارے واقعات کی تحقیقات کروائے جائے۔چنانچہ کئی ماہ کی محنت شاقہ کے بعد حج صاحبان نے ایک مفصل رپورٹ تیار کی جو رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔اس رپورٹ کے آخری نتائج کے میاں جمال احمد لاہور میں امانتاً دفن کر دیئے گئے تھے۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی اجازت سے ۵ نومبر ۱۹۵۴ء کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کر دیئے گئے۔شہادت کے وقت مرحوم کی عمر ۷ اسال اور ۵ دن تھی اور ایف اے کا طالب علم تھا۔مفروضہ نہیں بہت مخلص احمدی تھے۔