لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 567
567 لیڈروں نے تقریریں کیں۔صاحبزادہ فیض الحسن نے اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ احمد یوں کو اقلیت قرار دیا جائے یا انہیں مجبور کیا جائے کہ اس ملک کو چھوڑ دیں اور بھارت میں آباد ہو جائیں۔مولا نا محمد علی جالندھری نے جو جلسے کی صدارت کر رہے تھے ایک قرار داد پیش کی جس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ احمدیوں کو ذمہ دار عہدوں سے موقوف کر دے اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے میجر جنرل نذیر احمد کی گرفتاری ( راولپنڈی سازش کیس میں۔ناقل ) کا ذکر کر کے کہا کہ اس گرفتاری نے یوم تشکر کو یوم تفخر بنا دیا ہے کیونکہ مملکت ایک بہت بڑے خطرے سے بچ گئی ہے۔بخاری نے حسب معمول اپنے مبتنذل اور پست مزاج سے کام لیکر کہا کہ میجر جنرل نذیر احمد نگا ہو گیا ہے۔اب احمدی اس کو نئی پتلون پہنائیں۔اس نے یہ بھی کہا کہ میجر جنرل نذیر احمد کو مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اکسا کر سازش میں شامل کرایا ہے۔بخاری نے اس جلسے کے حاضرین سے جو نعرے لگوائے وہ حسب ذیل تھے : نمک حرامان پاکستان مردہ باد غداران پاکستان مردہ باد پاکستان زنده 9966 باد ” مرزا بشیر الدین محمود احمد مُردہ باد مرزائیت مُردہ باد ۲۶۔مئی کے جلسے میں قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے پھر مقدمہ سازش راولپنڈی کا ذکر کیا اور شیخ حسام الدین نے اعلان کیا کہ احمدی جو مسلمانوں کے قومی مفاد کیلئے ایک خطرہ ہیں کلیدی عہدوں سے موقوف کئے جانے چاہئیں۔شیخ حسام الدین اور علامہ علاؤ الدین صدیقی نے چوہدری ظفر اللہ خاں کے متعلق توہین آمیز کلمات کہے اور ان کی موقوفی کا مطالبہ کیا۔اس دن بھی ایک جلوس نکالا گیا۔جب حسب معمول اس جلسے کی تقریروں کی روئیدادا چیف منسٹر کی خدمت میں پیش کی گئی تو انہوں نے اس پر ذیل کی معنی خیز رائے لکھی : احرار ایک ایسے مسئلے سے فائدہ اٹھا کر جس کو پاکستانی عوام میں واضح مقبولیت حاصل ہے اپنے لئے محض سیاسی موقف و مقام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمیں اس 66 امر پر گہری نظر رکھنی چاہئے کہ یہ معاملہ ایک خاص حد سے متجاوز نہ ہو“۔۱۲۹ چیف منسٹر کے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان کو احمدیوں کی ذلیل مخالفت اور گورنمنٹ کے معزز احمدی عہد راروں کی توہین و تضحیک سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ان کو اگر فکر تھی تو صرف یہ کہ ان کی