لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 566
566 میاں غلام محمد صاحب مدرس کی شہادت پھر یکم اکتوبر ۱۹۵۰ء کو سات احمدیوں کا ایک وفد پیغام حق پہنچانے کے لئے اوکاڑہ سے چک نمبر ۵ میں گیا جہاں کے احرار نے ان پر کیچڑ پھینکی۔ان کے چہروں پر کالک ملی اور گندے پانی سے انہیں ہنکا کر ریلوے اسٹیشن اوکاڑہ تک پہنچایا۔اس واقعہ کی پولیس میں جب رپورٹ لکھوائی گئی تو پولیس نے ایک شخص مولوی فضل الہی صاحب کو جو شرارت کے سرغنہ تھے زیر حراست لے لیا۔اس گرفتاری کے خلاف احرار نے بے انتہا اشتعال انگیز تقریریں کر کے سخت احتجاج کیا اور نوجوان حاضرین سے اپیل کی کہ " مرزائی فتنہ سے قوم کو نجات دلاؤ“۔دوسرے دن ایک شخص محمد اشرف نے میاں غلام محمد صاحب احمدی مدرس کا ایک چھرے سے مسلح ہو کر تعاقب کیا اور اس زور سے چھرا مارا کہ مدرس مذکور کو جو ابھی تھانہ میں رپورٹ درج کروانے کیلئے لے جائے جا رہے تھے کہ انہوں نے رستہ ہی میں جام شہادت نوش فرمالیا۔۲۸ انا لله و انا اليه راجعون - میاں بدر دین صاحب کی شہادت اس واقعہ کے بعد اسی مہینہ میں راولپنڈی میں ایک شخص ولایت خاں نے ایک احمدی بدر دین صاحب کو گولی مار کر شہید کر دیا۔اور جب اس سے بیان لیا گیا تو اس نے خود اعتراف کیا کہ ” میں نے بدر دین کو اس لئے ہلاک کیا ہے کہ وہ احمدی ہے۔لاہور میں یوم تشکر ۲۶٬۲۵ مئی ۱۹۵۱ء احرار نے جب دیکھا کہ آہستہ آہستہ ان کی تحریک ترقی کر رہی ہے اور احمدیوں کے خلاف بڑھتی جارہی ہے اور گورنمنٹ بھی ان سے کوئی باز پرس نہیں کر رہی تو انہوں نے وسیع پیمانے پر لاہور میں ” یوم تشکر“ منانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے ۲۶۲۵ مئی ۱۹۵۱ء کے دو دن مقرر کئے گئے۔” یوم تشکر منانے کے سلسلہ میں پہلے دن تمام پنجاب اور صوبہ سرحد کے اضلاح پیشاور و ہری پور ہزارہ کے احراری رضا کاروں کے دستے لاہور کے بازاروں سے بشکل جلوس گذرے۔ان کے ساتھ پانچ بینڈ باجے بھی تھے۔شام کو جلسہ ہوا جس میں بہت سے مسلم لیگی ایم۔ایل۔اے اور عہد یدار بھی شامل تھے۔احرار 66