لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 55 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 55

55 ذکر ہے کہ اس موقعہ پر جماعت لاہور کو مسلسل کئی روز تک سینکڑوں احباب کی مہمان نوازی کی خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی۔فجزاهم الله احسن الجزاء لیکچر لا ہو ر ۱۳ ستمبر ۱۰۹۴ء ۱۳ ستمبر ۱۹۰۴ء کو آپ کا مشہور و معروف لیکچر اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب کے موضوع پر اس منڈوہ میں ہوا جو مزار حضرت داتا گنج بخش کے عقب میں ہے۔اور اس وقت میلا رام کا منڈ وہ کہلاتا تھا۔لیکچر کے متعلق اشتہارات سارے لاہور میں تقسیم کر دیے گئے تھے۔اس لئے لیکچر شروع ہونے سے قبل ہی سارا منڈ وہ بھر گیا۔مخالف علماء لیکچر گاہ کے نزدیک لوگوں کو جلسہ سے روکنے کے لئے گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ کہ رہے تھے کہ جو مسلمان لیکچر سنے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ایک مولوی جو شیشم ( ٹاہلی ) کے درخت پر چڑھ کر لوگوں کو روک رہا تھا وہ بعد میں مولوی ٹاہلی کے نام سے مشہور ہو گیا۔خدا کی قدرت ! کہ جیسے جیسے حضرات علماء لوگوں کو روکتے تھے۔ویسے ویسے مخلوق زیادہ ذوق و شوق کے ساتھ اس طرف انڈی چلی آتی تھی۔پولیس کا بھی زبر دست انتظام تھا۔لیکچر ٹھیک اپنے وقت مقررہ پر صبح ساڑھے چھ بجے شروع ہوا۔حضرت اقدس کا لیکچر جوطبع کروا لیا گیا تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ہزار ہا کے مجمع میں بلند آواز سے پڑھ کر سنایا۔لیکچر دوحصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔پہلے حصہ میں اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب کے درمیان موازنہ کیا گیا تھا اور دوسرے حصہ میں زندہ خدا کے زندہ نشانات پیش کر کے اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت دیا گیا تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جب حضور کا لیکچر سنا چکے تو پلک نے اصرار کیا کہ حضرت اقدس زبانی بھی کچھ ارشادفرمائیں۔لیکن جب حضور کھڑے ہوئے تو بعض مخالفین نے شور مچانا شروع کر دیا۔یہ رنگ دیکھ کر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے قرآن کریم خوش الحانی کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا۔بس پھر کیا تھا۔لوگ ایسے متاثر ہوئے کہ مجمع پر بالکل سکوت طاری ہو گیا۔اس کے فوراً بعد حضرت اقدس کی تقریر شروع ہوئی۔حضور نے پہلے پبلک کا شکریہ ادا کیا اور پھر فرمایا کہ مذہبی اختلافات کو آپس کی عداوت اور ایذارسانی کی وجہ نہ بنائیں۔خدا تعالیٰ کے اخلاق وسیع ہیں۔آپ لوگ بھی اپنے اندر وسعت قلبی پیدا کریں۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ مذاہب کے اختلاف کا ذکر نہ کرو۔کرو اور بے شک کرو مگر نیک نیتی کے