لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 557
557 کی وجہ سے سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں تقریر کرنا منظور فرما لیا۔چنانچہ یہ جلسہ حسب پروگرام ۲۵ دسمبر کو صبح دس بجے رتن باغ کے سامنے اسی جگہ منعقد کیا گیا جہاں گذشتہ سال جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ ہوا تھا۔حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے خود بنفس نفیس اس کا افتتاح فرمایا۔افتتاحی تقریر کے دوران حضور نے جماعت کو اپنا عملی نمونہ درست کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ”ہمارا مقصد تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرما دیا ہے کہ اسلام کو دنیا میں غالب کرنا۔پس ہمارا مقصد ہمارے سامنے ہے اسے حاصل کرنا ہمارا کام ہے۔ایسا غلبہ جو دلائل اور تعلیم کے لحاظ سے ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں وہ تو قرآن کریم میں موجود ہے۔اور اعلی تعلیم جس کی وجہ سے قرآن تمام مذہبی کتب سے افضل ہے اس میں موجود ہے۔اور ہر شخص جو غور کرے اس کو دیکھ سکتا ہے۔لیکن جب تک ان دلائل کو عملی طور پر پیش نہ کیا جائے محض دلائل سے کوئی شخص قائل نہیں ہوسکتا۔لوگوں کا عام طریق ہوتا ہے کہ جب وہ دلائل سے عاجز آ جاتے ہیں تو وہ کہ دیتے ہیں کہ بتاؤ تم نے اس تعلیم پر عمل کر کے کونسا تغیر اپنے اندر پیدا کر لیا ہے؟ کونسا اعلیٰ مقام حاصل کر لیا ہے؟ کونسی فضیلت حاصل کر لی ہے؟ چنانچہ آج دشمن اسی طریق سے اسلام پر طعنہ زن ہو رہا ہے۔جب ہم اس کے سامنے اسلام کی تعلیم پیش کرتے ہیں تو کہتا ہے۔بتاؤ اسلامی ممالک نے کونسی رواداری کی مثال پیش کی ہے اور کون سے فتنے فساد انہوں نے رفع کئے ہیں۔کون سانیا تغیر انہوں نے پیدا کیا ہے اور اگر انہوں نے اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے کچھ نہیں کیا تو اس تعلیم کو تم ہمارے سامنے کیوں پیش کرتے ہو۔جب اس کے ماننے والے اسے رڈ کر چکے ہیں تو نہ ماننے والے کیونکر قبول کریں۔یہ ایساز بر دست اعتراض ہے کہ اس کے سامنے ہمارے لئے بولنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر تغیر پیدا کریں اور اسلام کی تعلیم کے ساتھ عمل کا ایسا اعلیٰ نمونہ پیش کریں کہ دشمن بھی اسلام کی علمی و عملی برتری کا اقرار کرنے لگے، ۱۱۳ دوسری خصوصیت اس جلسہ کی یہ تھی کہ مفتی اعظم فلسطین کے ذاتی نمائندوں الشیخ عبداللہ غوثیہ اور بد سلیم الحسینی اور السید عبدالحمید بک جو افغانستان میں فلسطینی سفیر مقرر ہوئے تھے نے اس جلسہ میں