لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 558
558 شرکت کی اور اوّل الذکر نے تو تقریر بھی کی۔جس میں اسلامی اصول کو اپنانے اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کرنے کی اپیل کی۔۱۱۴ اس جلسہ میں مولا نا عبد الغفور صاحب فاضل، مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری، چوہدری اسد اللہ خاں صاحب بار ایٹ لاء صوفی مطیع الرحمن صاحب ایم۔ائے قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔ائے مولانا جلال الدین صاحب شمس، حضرت مفتی محمد صادق صاحب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور میاں عبدالمنان صاحب نے تقریریں کیں۔جلسہ کے افسر اعلیٰ چوہدری محمود احمد صاحب قائد خدام الاحمدیہ لاہور تھے جو اپنے نائبین چوہدری عبد الکریم خاں صاحب اور قاضی خالد ہدایت اللہ صاحب کے ہمراہ مقامی جماعت کے امیر شیخ بشیر احمد صاحب اور ان کے نائب پر و فیسر قاضی محمد اسلم صاحب کے مشورہ اور مدد سے کام کرتے رہے۔ہر عبدالشکور کنزے کی لاہور میں تشریف آوری ۱۱۔جنوری ۱۹۴۹ء کو ہمارے جرمن نومسلم بھائی ہر عبد الشکور کنزے پاکستان میل کے ذریعہ کراچی سے لاہور تشریف لائے۔اسٹیشن پر ہزاروں اصحاب نے ان کا شاندار استقبال کیا۔آپ جرمن فوج میں اعلیٰ فوجی افسر تھے۔لیبیا میں جنرل رومیل کی قیادت میں لڑتے ہوئے گرفتار ہو گئے تھے۔وہاں سے آپ کو امریکہ بھیج دیا گیا۔جہاں سے انہیں ۱۹۴۶ء کے آخر میں انگلستان لایا گیا اور قید کی پابندیاں اٹھا دی گئیں۔انگلستان پہنچ کر آپ کا رجحان مذہب کی طرف ہو گیا۔چنانچہ آپ نے جماعت احمدیہ کے تبلیغی مرکز سے رابطہ قائم کر کے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ شروع کیا جس کے نتیجے میں بہت جلد آپ کو حقیقی اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔فالحمدللہ علی ذالک محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت کی والدہ محترمہ کی وفات ۲۹۔جون ۱۹۴۹ء محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور کی والدہ محترمہ ۲۹۔جون ۱۹۴۹ء کی صبح و مختصر سی علالت کے بعد وفات پاگئیں۔انا الله و انا اليه راجعون۔مرحومہ بہت ہی نیک مخلص اور مہمان نواز خاتون تھیں۔۱۱۶