لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 545
545 پھرا تا آ گیا۔حضور رضی اللہ عنہ کو جب اس کا علم ہوا تو حضور نے حکم دیا کہ اسے پیٹ بھر کر کھانا دیا جائے اور ضروری لباس اور بستر بھی مہیا کیا جائے۔چنانچہ حضور کے حکم کی تعمیل میں اس کی رہائش، لباس اور خوراک کا مکمل انتظام کر دیا گیا۔مگر افسوس کہ پندرہ سولہ دن رہ کر وہ یہاں سے چلا گیا۔لباس اور بستر تو ساتھ لے گیا مگر آرام دہ رہائش اور خوراک سے محروم ہو گیا۔اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ مجھے یاد آیا۔آٹھ دس سال کی بات ہے کہ محترم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے خاکسار کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ایک لڑکے کا خط دکھایا جو اس نے کراچی سے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ارسال کیا تھا۔اس میں لکھا تھا کہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا لڑکا ہوں۔اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے باپ کے متعلق حضرت مرزا صاحب (علیہ السلام) نے جو لکھا تھا کہ ” خانه ات ویران تو در فکرے دگر یہ بالکل صحیح ہے اور اس کی صحت کا گواہ میں مولوی صاحب موصوف کا بیٹا ہوں۔میں کراچی میں رہتا ہوں۔مارے مارے پھرتا ہوں۔کوئی مجھے نہیں پوچھتا۔لیکن جب احمد یہ ہال میں آتا ہوں تو روٹی مل جاتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ خط نہایت عمدہ لکھا ہوا تھا۔خاکسار کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس خط کا کا تب ظاہری حالات کے لحاظ سے یقیناً اس قابل ہے کہ اگر کسی جگہ کلر کی اختیار کر لے یا بچوں کو پڑھانا شروع کر دے تو پچاس ساٹھ روپے بآسانی کما سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ یہ شخص در بدر دھکے کھا رہا ہے۔فاعتبر وایا اولی الابصار لاہور میں قادیان کے مہاجرین کی رہائش اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور حضور کے خاندان اور دیگر متعلقین کی رہائش رتن باغ میں تھی۔اب رہا قادیان کے باقی احمدیوں کی رہائش کا مسئلہ کے لئے تین بلڈنگیں الاٹ کروائی گئیں۔۱۔جو دھامل بلڈنگ ۲ - جسونت بلڈ نگ ۳۔سیمنٹ بلڈنگ۔ان بلڈنگوں میں علاوہ رہائش کے سلسلہ کے دفاتر بھی تھے۔چنانچہ ۲۱- اگست ۱۹۴۷ء کے الفضل میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک نقشہ دیا تھا جو درج ذیل ہے۔