لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 542 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 542

542 نہ کرے گا۔پہلے نبیوں کو بڑی بڑی تکالیف پہنچ چکی ہیں۔عزت وہی ہے جو خدا اور بندے کے تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔مادی اشیاء سب فانی ہیں خواہ وہ کتنی ہی بزرگ یا قیمتی ہوں۔ہاں خدا تعالیٰ کا فضل ما نگتے رہو۔شاید کہ وہ یہ پیالہ ٹلا دے۔خاکسار مرزا محمود احمد ۱۹۴۷ء-۸-۳۰ حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی اس دوسری چٹھی سے ظاہر ہے کہ ملکی حالات کا جائزہ لینے اور اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کے بعد اب حضور اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ حضور کا وجود جماعت اور مسلمانوں کے لئے ہندوستان میں رہنے کی بجائے پاکستان میں زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔چنانچہ پہلے حضور نے اپنے خاندان کی خواتین اور بچوں کو لاہور بھجوا دیا۔یہ ۲۵۔اگست کا دن تھا۔چھ دن بعد یعنی ۳۱ - اگست ۱۹۴۷ء کو حضور خود بھی لاہور پہنچ گئے۔میو ہسپتال کے متصل رتن باغ میں حضور اور حضور کے خاندان کو رہائش کی جگہ ملی۔اور جو دھامل بلڈنگ اور اس کی متصل تین چار بلڈنگوں میں جماعت کے احباب ٹھہر گئے۔مجھے خوب یاد ہے اس زمانہ میں قائد مجلس خدام الاحمدیہ محترم قریشی محمود احمد صاحب حال ایڈووکیٹ لاہور نے اپنے معاونین کی مدد سے نہایت ہی نمایاں کام کیا۔لاہور میں خدام الاحمدیہ نے مہاجرین کو کھانا کھلانے اور مختلف علاقوں میں آباد کرنے کے لئے بہت تگ ودو کی۔امیر جماعت احمدیہ محترم شیخ بشیر احمد صاحب بھی اپنے معاونین محترم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب مرحوم جنرل سیکرٹری مرزا خدا بخش صاحب اور محترم با بو فضل دین صاحب وغیرہ کے ساتھ ہر وقت دوڑ دھوپ میں مصروف تھے۔کہیں مہاجرین کو کھانا کھلانے کے انتظام میں مصروف نظر آتے تھے۔کہیں ان کی رہائش کے مسئلہ پر غور کرتے دکھائی دیتے تھے۔چونکہ ہزار ہا بلکہ لکھوکھا افراد کی رہائش کا مسئلہ در پیش تھا اس لئے حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے جو دھامل بلڈنگ میں مہاجرین کی رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک دفتر قائم کر رکھا تھا۔جس کے انچارج محترم مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب تھے۔مختلف علاقوں سے جماعت کے احباب کی طرف سے جو اطلاعات موصول ہوتیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے مہاجرین کو ان علاقوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتا اور جب مہاجرین ان علاقوں میں پہنچتے تو وہاں کے لوکل احمدی ان کی رہائش اور خوراک