لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 533
533 اور حقیقت یہی ہے کہ یہ استعفیٰ چوہدری صاحب موصوف کے زور دینے پر ہی دیا گیا تھا۔ملک صاحب کے استعفیٰ کے بعد حکومت کے تمام اختیارات گورنر صاحب پنجاب سرایون جنکنز نے خود سنبھال لئے تھے اور اعلان کیا تھا کہ نئی وزارت بننے تک میں نے سر خضر حیات خاں اور ان کے رفقاء سے کہا تھا کہ وہ حکومت کا کام چلائیں۔لیکن انہوں نے اس سلسلے میں معذوری کا اظہار کر دیا ہے۔اس لئے حکومت کے جملہ اختیارات میں نے اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں۔نئی وزارت کی تشکیل کی کوششیں جاری ہیں۔امید ہے کہ بہت جلدنئی وزارت برسراقتدارآ کر جملہ امورسنبھال لے گئی۔۱۰۲ فسادات یہ وہ خطرناک ایام تھے جن میں پنجاب کے تمام شہروں میں ہندو مسلم فسادات رونما ہو چکے تھے۔گورنمنٹ کو تمام بڑے بڑے شہروں میں کرفیو لگانا پڑا مگر فسادات کی آگ بھڑک چکی تھی۔کچھ لوگ باہمی فسادات کی وجہ سے قتل ہو رہے تھے اور کچھ پولیس اور فوج کی گولیوں کا نشانہ بن رہے تھے۔آتش زنی کی متعد د واردات ہو رہی تھیں۔امن مفقود ہو چکا تھا اور بدامنی، بے چینی اور خوف و اضطراب کا دور دورہ تھا۔مبلغ کے رہائشی مکان کی تعمیر لاہور میں یہ حالت تھی کہ جن علاقوں میں ہندوؤں کا غلبہ تھا وہاں سے کسی مسلمان کا گذرنا موت کو دعوت دینا تھا اور جن علاقوں میں مسلمانوں کو طاقت حاصل تھی وہاں سے کسی ہند و یا سکھ کا سلامت گذرنا نا ممکن تھا ایسے پر آشوب حالات میں مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ لاہور کے ساتھ مبلغ کی رہائش کے لئے مکان کی تعمیر جاری تھی۔مجھے خوب یاد ہے۔۱۹۴۶ء کے آخری حصہ میں اس مکان کی تعمیر شروع ہوئی اور ۱۹۴۷ء کے پہلے ربع میں یہ مکان مکمل ہوا۔ہمارے مستری صاحبان محمد انور اور اللہ رکھا بڑے اطمینان کے ساتھ تعمیر کا کام کرتے تھے۔ان ایام میں مسجد شہید گنج کی طرف سے بڑے زور سے ”ست سری اکال‘“