لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 532 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 532

532 دیگر اقوام کے نمائندوں کے عدم تعاون کی وجہ سے اس وقت تک حکومت پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا تھا جب تک ملک صاحب استعفی پیش نہ کرتے۔لاہور میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو چکے تھے۔حکومت نے مسلم لیگی لیڈروں کو گرفتار کر لیا تھا۔پریس پر پابندیاں تھیں مگر ملک صاحب موصوف جھکنے میں نہیں آتے تھے۔آہستہ آہستہ انہوں نے برطانوی حکومت کے ۲۰ فروری ۱۹۴۷ء کے اعلان کی وجہ سے پریس سے پابندیاں دور کر دیں۔۱۳۰۰ مسلم لیگی کارکن رہا کر دیئے اور تمام فرقوں کے لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ قیام امن کے سلسلے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔خاکسار مؤلف کتاب ہذا ان ایام میں یہیں تھا۔۲ مارچ ۱۹۴۷ء بروز اتوار صبح نو بجے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ لا ہور سے سندھ تشریف لے جا رہے تھے۔مجھے خوب یاد ہے آنریبل چوہدری صاحب بھی حضور کو الوداع کہنے کے لئے تشریف لائے اور یہ خوشخبری سنائی کی آج انشاء اللہ ملک خضر حیات خاں صاحب کے استعفیٰ کا اعلان ہو جائے گا۔چنانچہ اوکاڑہ یا کسی اور ریلوے اسٹیشن سے حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کو تار دلوایا کہ آج شام آپ ایک خوشخبری سنیں گے چنانچہ اسی روز استعفیٰ کا اعلان ہو گیا۔استعفیٰ کی اس حقیقت کا اظہار ۵- مارچ کے انگریزی اخبار ” ٹریبیون“ میں بدیں الفاظ کیا گیا تھا: معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خضر حیات خاں صاحب نے یہ فیصلہ سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے مشورہ اور ہدایت کے مطابق کیا ہے۔سنا جاتا ہے کہ مسلم لیگ کی تازہ ایجی ٹیشن کے دوران جماعت احمدیہ کے امام نے خضر حیات خاں کو خط لکھا کہ وہ لیگ کے سامنے جھک جائیں۔یہ خط سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے ذریعے بھیجا گیا تھا جنہوں نے اپنے امام کی ہدایت کی پُر زور تائید کی۔ملک خضر حیات صاحب نے سر ظفر اللہ خاں کو لا ہور مشورہ کے لئے بلایا جس کے بعد ملک صاحب نے وہ بیان دیا جو اخبارات میں شائع ہوا۔انا ۷۔مارچ ۱۹۴۷ء کے الفضل میں ضروری تردید کے عنوان سے یہ اعلان کیا گیا کہ ٹریبیون میں جو یہ لکھا گیا ہے کہ امام جماعت احمدیہ نے چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو ملک خضر حیات خاں صاحب کے نام کوئی خط دیا تھا، یہ میچ نہیں۔البتہ اس امر کی کوئی تردید نہیں کی گئی کہ حضرت امام جماعت احمدیہ کے ارشاد پر ہی جناب چوہدری صاحب نے ملک صاحب کو استعفیٰ دینے پر رضا مند کیا تھا "