لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 523
523 پیشگوئی مصلح موعود کے الہامی الفاظ وو۔۔۔۔۔۔۔سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت و دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔فرزند دلبند گرامی ارجمند مظهر الاول والآخر - مظهر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وکان امراً مقضياً، ۸۷ اس اشتہار میں مصلح موعود کی جن صفات خاصہ کا ذکر کیا گیا ہے ان کو سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ذات میں موجود پا کر جماعت کی اکثریت پر یقین رکھتی تھی کہ مصلح موعود “ آپ ہی ہیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سید نا حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی بشارتوں سے بھی یہی ظاہر ہوتا تھا کہ مصلح موعود ، آپ ہی ہیں۔جماعت کے رجحان اور بشارتوں کے باوجود حضور نے کبھی مصلح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا لیکن ۱۹۴۴ء میں جب حضور حضرت سیدہ ام طاہر احمد مرحومہ کی بیماری کے ایام میں لاہور میں محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان پر قیام فرما تھے۔حضور کو۵ اور ۶ - جنوری ۱۹۴۴ ء کی درمیانی رات کو بذریعہ رویا بتا یا گیا کہ مصلح موعود آپ ہی ہیں۔چنانچہ ۲۸ - جنوری ۱۹۴۴ء کو قادیان میں حضور نے جو خطبہ جمعہ ارشادفرمایا