لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 514
514 حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ گورنمنٹ ایسا قانون بنائے کہ جس مذہب کے پیشوا کی ہتک کی جائے اس کے پیرو ہتک کرنے والے پر خود مقدمہ دائر کریں۔اگر ایسا قانون بن جاتا تو جماعت احمدیہ کو گورنمنٹ پر اس بارہ میں کوئی اعتراض باقی نہ رہتا۔زریں نصائح غرض مندرجہ بالا ہدایات کے ساتھ ساتھ حضور نے نیشنل لیگ کو یہ بھی نصیحت کی کہ یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ شریعت کی پابندی اور قانون وقت کی اطاعت ہمیشہ ملحوظ رکھی جائے۔سیاسیات میں بھی کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے سلسلہ کی عظمت کو بطہ لگے۔تم پر کتنی ہی مصیبتیں آئیں۔کتنا ہی دکھ اور تکلیف میں رہنا پڑے اسے برداشت کرو۔کیونکہ یہ زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ سلسلہ پر کوئی اخلاقی یا قانونی الزام عائد ہو۔اب خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک اچھا نمونہ پیدا کر دیا ہے جس سے تم اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتے ہو۔ایک دو باتیں میں نے بتا دی ہیں اور بیسیوں اور باتیں ہیں جو نکالی جا سکتی ہیں جب تمہارے لئے ایک رستہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے کئی رستے کھولے ہوئے ہیں تو تمہیں کیا ضرورت ہے کہ تم وہ طریق اختیار کرو جس سے جماعت کی بدنامی ہو۔تم آئین کے اندر رہ کر کام کرو اور یقیناً یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین کے جلال کے لئے کھڑے ہو اور وہ تمہیں ضائع کر دے۔تم گذشتہ دنوں کے اللہ تعالیٰ کے وہ نشانات دیکھ لو جواس نے تمہاری تائید کے لئے ظاہر کئے۔کس طرح اس نے حیرت انگیز طور پر تمہاری مدد کی اور کس طرح اس نے تمہارے دشمنوں کو نیچا دکھایا ہے ان جلی الفاظ میں حضور کا اشارہ مجلس احرار کی اس ذلت کی طرف ہے جوا سے مسجد شہید گنج لاہور کے بارہ میں مسلمانوں سے علیحدہ رویہ اختیار کرنے پر اٹھانا پڑی۔تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ ۱۹۳۵ء کے اوائل میں سکھوں نے لنڈا بازار کی ایک قدیم مسجد کو جو سکھوں کے زمانہ سے ان کے قبضہ میں چلی آتی تھی اپنے نزدیکی گوردوارہ میں شامل کرنے کے لئے شہید کر دیا۔جس کے نتیجہ میں مسلمانوں میں سخت ہیجان پیدا ہوا۔اور انہوں نے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ جب تک مسجد کو نئے سرے