لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 513
513 وو نہیں کرنا چاہیئے جب تک قانونی ذرائع ہمارے لئے بند نہ ہو جائیں۔تیسرا امر جو نیشنل لیگ کو مد نظر رکھنا چاہئے یہ ہے کہ ایسے افسر اس ضلع میں بھی ہیں اور باہر بھی جنہوں نے سلسلہ کی متواتر ہتک کی ہے اور سلسلہ کے تمام حقوق کو انہوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔صدر انجمن نے متواتر حکومت کو توجہ دلائی ہے کہ وہ ان افسروں کو سزا دے مگر حکومت نے ہمیشہ بے تو جہی سے کام لیا ہے۔نیشنل لیگ کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ایسے جائز ذرائع سے کام لے کر جو قانون اور شریعت کی حدود کے اندر ہوں دو باتوں میں سے ایک نہ ایک بات کرے۔یا تو حکومت کو مجبور کرے کہ وہ اپنے افسروں کو سزا دے یا ایسے طریق اختیار کرے کہ یہ معاملہ بالکل کھل جائے کہ حکومت اپنے افسروں کی رعایت کر رہی اور احمدیوں کی حق تلفی کر رہی ہے۔دونوں امور میں سے ایک امر ضر ور نیشنل لیگ اختیار کرے۔یا تو قانون کے مطابق ان افسروں کو حکومت سے سزا دلوانے کی کوشش کرے کیونکہ جیسے وہ حکام ہمارے مجرم ہیں اسی طرح حکومت کے بھی مجرم ہیں۔حکومت افسروں کو اس لئے مقرر کیا کرتی ہے کہ وہ مظلوم کی مدد کریں۔مگر جب وہ ظالم کی مدد کر رہے ہوں تو وہ حکومت کے بھی ایسے ہی مجرم ہیں جیسے لوگوں کے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ حکومت ان کو سزا نہ دے لیکن اگر وہ سزا نہ دے تو ایسا طریق اختیار کر وجود نیا پر ثابت کر دے کہ تم حق پر تھے مگر حکومت نے تمہارا حق ادا نہیں کیا۔اور وہ یہ ہے کہ مختلف امور کے متعلق عدالتوں میں مقدمات لے جاؤ اور ہائیکورٹ اور پر یوی کونسل تک ان مقدمات کو چلا ؤ۔یہاں تکہ یہ امر ثابت ہو جائے کہ حکومت پنجاب نے بعض غیر منصف حکام کے متعلق نا جائز طرف داری کا “ کے طریق اختیار کیا ہے۔" حقیقت میں یہ ساری مشکل اس لئے پیش آئی کہ گورنمنٹ کا یہ قانون تھا کہ اگر کوئی شخص کسی قوم کے بزرگ کی ہتک کرے تو ہتک کرنے والے پر نالش گورنمنٹ کرے۔اس قوم کے افراد نہیں کر سکتے تھے۔اور گورنمنٹ یہ دیکھتی تھی کہ جن کا دل دکھا ہے وہ کتنی تعداد میں ہیں اور آیا وہ بے قابو ہو کر قانون توڑنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔اگر دیکھتی کہ فساد کا خطرہ ہے تو توجہ کرتی تھی بصورت دیگر ٹس سے مس نہ ہوتی تھی۔