لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 510
510 صدر رہا اور جب اس حلقہ میں تنظیم قائم ہو گئی اور چندہ بھی با شرح آنا شروع ہو گیا تو محترم شیخ صاحب کی اجازت سے دوباہ انتخاب ہوا اور میاں محمد صاحب صدر منتخب ہو گئے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ محترم چوہدری عبدالرحیم صاحب کے زمانہ کا ایک رجسٹر مجھے ملا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ۳۸ - ۱۹۳۹ء کا زمانہ تھا۔اس زمانہ میں مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں باقاعدگی کے ساتھ حلقہ کے ہفتہ وار اجلاس ہوا کرتے تھے اور اکثر حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل، حضرت میاں معراج دین صاحب عمر، حضرت میاں محمد سعید صاحب سعدی اور دیگر بزرگوں کی ذکر حبیب پر ایمان افروز تقاریر ہوا کرتی تھیں۔ان تقریروں کا خلاصہ پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔اس زمانہ میں اس حلقہ میں میاں فیملی کے کافی افراد مسجد کے اردگرد رہا کرتے تھے مگر اب ان کی نسل لا ہور کے بعض دیگر حصوں اور دوسرے شہروں میں پھیل گئی ہے اور بہت کم لوگ یہاں رہ گئے ہیں۔اللہ کرے وہ اپنے بزرگوں کے روحانی ورثہ کے حقیقی وارث بنیں۔آمین اللهم آمین۔محترم با بوفضل دین صاحب ریٹائر ڈ سپر نٹنڈنٹ ہائیکورٹ کا بیان ان کے حالات میں درج کیا جاچکا ہے۔یہاں موقعہ کی مناسبت سے اُس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔آپ کے بیان کے مطابق : آپ جناب شیخ صاحب کے زمانہ امارت میں ۱۹۳۱ء سے لیکر ۱۹۳۹ ء تک سیکرٹری مال کے طور پر کام کرتے رہے۔اس کے بعد بطور نگران اس کام میں حصہ لیتے رہے۔چندہ آپ کے زمانہ میں سو فیصدی وصول ہوتا رہا۔اور اس کام میں محترم چوہدری عبدالکریم صاحب محترم ماسٹر محمد عبد اللہ صاحب محترم باب فضل احمد صاحب محترم حکیم سراج دین صاحب، محترم با بومحمد شفیع صاحب اور محترم قاضی محمود احمد صاحب آپ کی امداد فرماتے رہے۔حلقوں کے دوروں میں محترم ملک خدا بخش صاحب اور محترم میاں عبدالکریم صاحب معاونت فرمایا کرتے تھے۔فتنہ احرار اور جماعت کی بیداری محترم شیخ صاحب ابھی امیر بنے ہی تھے کہ سابق پنجاب اور خاص کر شہر لاہور میں مجلس احرار نے ملک میں سیاسی برتری حاصل کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک طوفان بے تمیزی بر پا کر