لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 505
505 ”میرے زمانہ امارت میں مسجد دہلی دروازہ کے ایک حصہ پر چھت ڈالی گئی اور اس سے مبلغ لاہور کی رہائش کا انتظام ہوا۔اس کام میں میوسکول آف آرٹس کے میاں محمد صاحب مرحوم نے بڑی خدمت کی۔میں نے سنا ہوا ہے کہ مسجد احمد یہ دہلی دروازہ (جو شروع سے لے کر مسجد دارالذکر کے زمانہ تک لاہور کی مرکزی مسجد رہی ) کا نقشہ بھی میاں محمد صاحب نے بنایا تھا۔اسی نقشہ پر لائکپور کی مسجد کا نقشہ اتارا گیا۔اس مسجد کی تعمیر میں حکیم محمد حسین صاحب قریشی نے بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔” میرے زمانہ امارت میں مجلس عاملہ کے اجلاس کچھ عرصہ مسجد دہلی دروازہ میں ہوتے رہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب میں ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا۔بعد میں کچھ عرصہ یہ اجلاس میرے مکان واقعہ راوی روڈ باغ منشی لدھا میں ہوتے رہے۔ماڈل ٹاؤن کے زمانہ کی بات ہے موٹر سائیکل سے گر کر مجھے چوٹ لگ گئی۔اس عرصہ میں حضور لا ہور تشریف لائے تو میری عیادت کے لئے گھر پر تشریف فرما ہوئے۔اسی زمانے کی بات ہے کہ میں برادرم ڈاکٹر محمد منیر صاحب کی خدمت میں دھرم پور کے سینی ٹوریم میں تھا کہ حضور شملہ سے غالباً کشمیر کمیٹی کی کوئی میٹنگ کر کے واپس تشریف لے جارہے تھے کہ میں نے راستہ میں دھرم پور کی روڈ پر حضور سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ حضور سینی ٹوریم پر چڑھ کر ڈاکٹرمحمد منیر صاحب کو بھی دیکھیں۔چنانچہ حضور اپنی کار چھوڑ کر سینی ٹوریم کی کار میں سوار ہو کر اوپر سینی ٹوریم میں پہنچے اور ڈاکٹر محمد منیر صاحب کی عیادت فرمائی۔ہمراہ مکر می شمس صاحب تھے حضور کا سینی ٹوریم میں آنا سب کے لئے باعث دلچپسی تھا۔ایک صاحب نے حضور سے تصویر کیلئے عرض کی۔حضور تصویر کے لئے ٹھہر گئے۔” میں نے ڈلہوزی کے زمانے میں دو سال حضور کی مصاحبت کا فخر حاصل کیا۔ایک سال عید بھی وہیں آئی۔عید پر حضور نے تمام جماعت کو دعوت دی۔کھانے کے وقت میں حضور کے سامنے بیٹھ کر ایک ہی رکابی میں کھاتا رہا اگر چہ شر ما تا رہا۔اسی عید کے دن شام کو سب مسلمانوں نے مشترکہ چائے پارٹی کا انتظام کیا جو سیسل ہوٹل میں ہوئی۔اس پارٹی کا واقعہ ہے کہ حضور معہ چند خدام سیسل ہوٹل کے ہال میں داخل ہوئے تو سب حاضرین احمدی