لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 504 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 504

504 شعبہ جات کے سیکرٹریوں کا انتخاب بھی ہوا۔جنرل سیکرٹری مکرمی ڈاکٹر عبید اللہ خاں ہوئے۔دوسرے سیکرٹریوں میں میاں عبد العزیز صاحب مغل با بوفضل الدین صاحب ریڈ رہائی کورٹ مولوی محب الرحمن صاحب، مکر می شیخ بشیر احمد صاحب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب تھے۔بعد میں ملک خدا بخش صاحب بھی شامل ہو گئے۔جو میرے زمانے میں اور شیخ بشیر احمد صاحب کے زمانے میں لمبے عرصہ تک جنرل سیکرٹری رہے۔مکرمی شیخ بشیر احمد صاحب کے زمانہ امارت میں عرصہ تک میں نائب امیر رہا اور یہ سلسلہ میرے کراچی جانے (۱۹۵۴ء) تک جاری رہا۔اس زمانے میں یعنی میری امارت کے زمانہ میں بڑے بڑے واقعات یہ ہیں۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کئی دفعہ تشریف لائے۔حضور کے تین لیکچر تو اچھی طرح یاد ہیں اسی زمانے کے ہیں۔ایک لیکچر سیرت النبی کی تقریب پر بریڈ لا ہال میں ہوا جس میں حضور نے لقد جاء كم رسول من انفسکم سورۃ توبہ کی آخری رکوع کی تفسیر فرمائی۔صدر پروفیسر سید عبد القادر تھے اور مقررین میں مسٹر رام چندر منچندہ تھے۔دوسرے دو لیکچر یکے بعد دیگرے دو دنوں میں ہوئے۔ان کا اہتمام پنجاب لٹریری لیگ نے کیا جس کے سیکرٹری دیوراج چوہدری ایم۔اے تھے جو بعد میں اخبار ” ٹریبیون“ کے اسٹنٹ ایڈیٹر ہوئے پہلا لیکچر ”مذہب اور سائنس“ کے موضوع پر ( یا ہستی باری تعالیٰ پر ) تھا جو میونسپل ہال میں ہوا۔صدر غالبا سرعبدالقادر صاحب تھے اور دوسرا لیکچر عربی ام الالسنہ پر تھا جو وائی۔ایم سی۔اے ہال میں ہوا۔اور صدر برکت علی صاحب قریشی پروفیسر عربی پنجاب یونیورسٹی تھے۔لاہور کا عظیم الشان جلسہ مصلح موعود کے اعلان کے متعلق میرے زمانہ نا ئب امارت میں ہوا۔اس کے پنڈال کی تیاری میرے اور چند اور دوستوں کے ذمہ تھی جن میں شیخ عبداللہ اور شیخ عبدالطیف صاحبان اچھی طرح یاد ہیں۔پنڈال میں آ کر حضور نے نماز ظہر وعصر پڑھائی۔نماز میں میں حضور کے ساتھ کھڑا تھا۔اس زمانے میں حضور ام طاہر کی بیماری کے ایام میں لمبا عرصہ لاہور رہے۔قریباً ہر روز شام کو مجلس علم و عرفان جمتی تھی (۱۳) ٹیمپل روڈ پر ) اس زمانہ کی بیشمار باتوں میں سے کچھ یاد ہیں۔باقی کا مستقل اثر دل و دماغ پر ہے۔