لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 501
501 ہیں۔اس خطبہ کو پڑھ کر مخالفین کو یقیناً اپنے احتجاجی فعل و عمل پر افسوس ہوا ہو گا اور ہونا چاہیئے۔19 محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا مقام حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی کی نظر میں محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو چونکہ ایسی پوزیشن حاصل ہوگئی تھی کہ آپ کا شمار مسلم قوم کے اعلیٰ لیڈروں میں ہونے لگا تھا اور گورنمنٹ کی نگاہ میں بھی آپ ہندوستان کے قابل ترین قانون دانوں میں شمار ہونے لگے تھے۔اس لئے دیگر مصروفیات کی وجہ سے جماعتی کاموں میں آپ زیادہ حصہ نہیں لے سکتے تھے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ امسح الثانی رضی اللہ عنہ نے ان حالات کو دیکھ کر اپنی موجودگی میں لاہور میں امارت کا انتخاب کروایا جس کے نتیجہ میں محترم جناب قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے امیر منتخب ہوئے۔اس لئے اس موقعہ پر اس امر کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ جماعتی کاموں کی وجہ سے آپ کا مقام حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں کیا تھا۔حضور نے مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء میں آپ کا ذکر بحیثیت امیر جماعت احمد یہ لا ہو ر ان الفاظ میں کیا کہ ا۔اس کا امیر بھی ایک ایسا شخص ہے جس سے مجھے تین وجہ سے محبت ہے۔ایک تو ان کے والد کی وجہ سے جو نہایت مخلص احمدی تھے۔میں نے دیکھا ہے انہوں نے دین کی محبت ( میں ) اپنی نفسانیت اور ”میں“ کو بالکل ذبح کر دیا تھا اور ان کا اپنا قطعاً کچھ نہ رہا تھا۔سوائے اس کے کہ خدا راضی ہو جائے۔ایسے مخلص انسان کی اولاد سے مجھے خاص محبت ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ ان میں ذاتی طور پر اخلاص ہے اور آثار وقرائن سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے آپ کو دین کی خاطر ہر وقت قربانی کے لئے تیار رکھتے ہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں علم ، عقل اور ہوشیاری دی ہے اور وہ زیادہ ترقی کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔کے ۲۔پھر حضور نے ۲۲ مئی ۱۹۵۵ء کو زیورچ سے جو پیغام جماعت کے نام ارسال فرمایا اس میں محترم چوہدری صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: