لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 497
497 سفر لاہور ۲۵۔اکتوبر ۱۹۲۹ء اسی سال ۲۵۔اکتوبر ۱۹۲۹ء کو حضور درد شکم کا علاج کروانے کی غرض سے دوبارہ لا ہور تشریف لائے اور کرنل باٹ صاحب سے علاج کروانے کے علاوہ جمعہ کی نماز بھی پڑھائی اور احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کی دعوت پر ایک تقریر بھی فرمائی۔۴۔نومبر ۱۹۲۹ء کو حضور وا پس قادیان تشریف لے گئے۔" گول میز کانفرنس میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی خدمات ۱۹۳۰ ء میں ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے برطانوی حکومت نے لندن میں ایک گول میز کانفرنس منعقد کی۔جس میں مسلمانوں کا سیاسی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے حضرت ☆ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔اس کانفرنس میں جو شاندار خدمات آپ نے سرانجام دیں ان کی بناء پر دوسری اور تیسری مرتبہ گول میز کانفرنس کے جو اجلاس لندن میں ہوئے ان میں بھی آپ سے شامل ہونے کی درخواست کی گئی۔اس کانفرنس میں مسلمانوں کے حقوق و مطالبات پیش کرنے میں جو شاندار وکالت آپ نے کی اس کا ذکر کرتے ہوئے روزنامہ انقلاب نے لکھا ہے : ا۔سر سیموئل ہو روزیر ہند نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں اعلان کیا تھا کہ گول میز کانفرنس کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہیں حل کرنے کے لئے قیمتی اور نتیجہ خیز خدمات سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے سرانجام دیں ۱۲ ۲۔اخبار ” شہباز لا ہور نے لکھا : ۱۹۳۰ء میں ہندوستانی اصلاحات کے سلسلے میں لندن میں گول میز کانفرنس کے اجلاس شروع ہوئے۔سر محمد ظفر اللہ خاں تینوں گول میز کانفرنسوں اور ہندوستانی اصلاحات سے متعلق دونوں ایوانوں کی مشترکہ پالیمنٹری کمیٹی کے مندوب تھے۔ان کانفرنسوں اور کمیٹی میں آپ نے جو شاندار خدمات سرانجام دیں ان سے ہندوستان اور ہندوستان سے دلچپسی گول میز کانفرنس لندن میں تین بار منعقد ہوئی۔پہلی مرتبہ نومبر ۱۹۳۰ء سے لیکر جنوری ۱۹۳۱ء تک دوسری مرتبہ نمبر ۱۹۳۱ء سے لیکر دسمبر ۱۹۳۱ء تک، تیسری مرتبہ نومبر ۱۹۳۲ء سے لیکر دسمبر ۱۹۳۲ء تک۔