لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 492
492 سابق وائسراؤں، گورنروں، پارلیمنٹ کے کارکنوں اور پریس کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔کئی مجالس سے خطاب کیا۔مشہور اخبارات میں مضامین لکھے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چوٹی کے انگریز سیاست دانوں کے علاوہ عام اخبار بین طبقہ بھی مسلمانوں کے حقوق میں کافی دلچسپی لینے لگ گیا۔۵۴ چنانچہ اس زمانہ کے مشہور اخبار ” دور جدید نے لکھا کہ پنجاب کونسل کے تمام مسلمانوں نے جو یقیناً مسلمانان پنجاب کے نمائندے کہلانے کا جائز حق رکھتے ہیں جب کہ یہ ضرورت محسوس کی کہ پنجاب کی طرف سے ایک مستند نمائندہ انگلستان بھیجا جانا چاہیئے تو عالی جناب چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ہی کی ذات ستودہ صفات تھی جس پر ان کی نظر انتخاب پڑی۔چنانچہ چوہدری صاحب اپنا روپیہ صرف کر کے اور اپنے قیمتی وقت اور آمدنی کو نظر انداز کر کے انگلستان تشریف لے گئے اور اس خوبی اور عمدگی سے حکومت برطانیہ اور سیاستین انگلستان کے روبرو یہ مسائل پیش کئے جس کے مداح نہ صرف مسلمانان پنجاب ہوئے بلکہ حکومت بھی کافی حد تک متاثر ہوئی۔یہ وہ واقعات ہیں اور وہ روشن حقائق ہیں جن سے کم از کم اخباری دنیا کا کوئی شخص کسی وقت بھی انکار نہیں کر سکتا ، ۵۵ یادر ہے کہ میں نے اپنے مضمون کو صرف ان کوششوں تک محدود رکھا ہے کہ جو مسلمانان ہند کی سر بلندی کے لئے لاہور کے احمدیوں نے اپنے امام ہمام کی ہدایات کے ماتحت کیں ورنہ اگر ساری جماعت کی کوششوں کا ذکر کیا جائے تو اس کے لئے ایک الگ مستقل کتاب لکھی جاسکتی ہے۔اس زمانہ کے متعدد مسلم اخبارات جماعت احمدیہ کی اس بارہ میں مساعی جمیلہ کو صفحہ قرطاس پر لانے میں قطعا کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے تھے۔ہندو اخبارات کا مخالفانہ پروپیگنڈا اور حضور کی طرف سے اس کا ازالہ ہندو قوم کا چونکہ گورنمنٹ میں بہت اثر ورسوخ تھا اس لئے انہوں نے گورنمنٹ کے اعلیٰ افسران کو ملاقاتوں اور اخبارات کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے خلاف یہ کہہ کر بہت بھڑ کا یا کہ احمدی اپنے امام کے حکم کے ماتحت مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کر رہے ہیں کہ ہندوؤں کا تجارتی بائیکاٹ کیا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اس زمانہ میں جب مسلم حقوق کی حفاظت اور اتحاد کانفرنس