لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 48 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 48

48 علمی اور عملی اور اخلاقی اور تقدیسی اور برکاتی اور ایمانی اور عرفانی اور افاضہ خیر اور طریق معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل میں باہم موازنہ اور مقابلہ کیا جائے۔یعنی یہ دکھلایا جائے کہ ان تمام امور میں کس کی فضیلت اور فوقیت ثابت ہے اور کس کی ثابت نہیں۔وغیرہ کے حضور کا یہ اشتہار لا ہور اور دیگر شہروں میں تقسیم کر دیا گیا اور اس کا انگریزی میں ترجمہ کروا کر بشپ صاحب کو بھی پہنچا دیا گیا۔مگر بشپ صاحب ایسے مرعوب ہوئے کہ گویا انہوں نے ابتداء کوئی چیلنج کیا ہی نہیں تھا۔دوسرے جس روز حضور کا یہ چینج پادری صاحب کو ملا۔اسی روز یعنی ۲۵ مئی ۱۹۰۰ ء کو پادری صاحب نے ” زندہ رسول“ کے موضوع پر لیکچر دینے کا اعلان کیا تھا اور حسب سابق اس میں بھی مسلمانوں کو مقابلہ پر آنے کی دعوت دی تھی۔یہ جلسہ رنگ محل ہائی سکول میں بڑے وسیع پیمانہ پر منعقد ہوا تھا۔اور اس میں تین ہزار کے قریب آدمی تھے۔مسلمانوں کو لاہور کے علماء میں سے تو کوئی عالم مقابلہ کیلئے نہ ملا۔امرتسر سے مولوی ثناء اللہ صاحب کو لایا گیا۔لیکن مولوی صاحب نے ڈاکٹر لیفرائے کا مقابلہ کرنے کی بجائے مسلمانوں کو یہ تلقین شروع کی کہ لیکچر سننے کے لئے ہرگز کوئی مسلمان نہ جائے۔مسلمانوں نے اپنے علماء کی بے بسی دیکھ کر سخت شرمندگی محسوس کی اور حضرت اقدس کی طرف رجوع کیا۔حضرت اقدس نے روح القدس کی تائید سے ڈاکٹر لیفر ائے کے متوقع مضمون سے پہلے ہی زندہ رسول“ کے موضوع پر ایک مضمون لکھا۔اور عجیب بات یہ ہے کہ جو لیکچر پادری صاحب نے دینا تھا اس کے دلائل کا مکمل جواب حضور کے اس مضمون میں موجود تھا۔چنانچہ جب پادری صاحب اپنی تقریر ختم کر چکے اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس کا مضمون پڑھنا شروع کیا تو سامعین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کیونکر حضرت مرزا صاحب کو پادری صاحب کے دلائل کا قبل از وقت علم ہو گیا جو آپ نے ان دلائل کو ایک ایک کر کے تو ڑ کر رکھ دیا۔بشپ صاحب اور ان کے ساتھی بھی اس مضمون کوسن کر ششدر رہ گئے کیونکہ یہ مضمون ان کے لیکچر کا مکمل جواب تھا۔غرض حضرت اقدس کا چیلنج وصول کر کے بشپ صاحب سخت سٹپٹائے اور مباحثہ سے صاف انکار کر دیا اور اس انکار پر متعد د انگریزی اخبارات مثلاً پاؤ نیز انڈین سپیکٹیٹر اور انڈین ڈیلی ٹیلیگراف وغیرہ نے حیرت کا اظہار کیا۔۲۸