لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 473
473 ساتھ ہی تھے اور اس فیملی کے سارے افراد اسی مسجد میں نمازیں پڑھا کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کے شاگر د بھی تھے اس لئے حضرت مولوی صاحب کے بیعت کر لینے کے بعد آہستہ آہستہ یہ سارا خاندان بھی احمدیت میں داخل ہو گیا۔محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بروایت حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل فرمایا کرتے ہیں۔جن دنوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مباحثہ شمس العلماء مفتی محمد عبد اللہ صاحب ٹونکی عربی پروفیسر اور مینٹل کالج سے ہند و محبوب رایوں کی حویلی میں ہوا کرتا تھا ان ایام میں حضرت مولوی غلام حسین صاحب گمٹی بازار والے بھی اس مجلس میں شامل ہوا کرتے تھے۔ایک دن کوئی ہندوستانی مولوی صاحب حضرت اقدس سے گفتگو کر رہے تھے کہ حضرت اقدس نے حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک حوالہ پیش کیا۔جس پر ان مولوی صاحب نے بڑے احتجاج کے ساتھ بلند آواز سے کہا کہ سید عبدالقادر صاحب ان کے پیر نہیں ہیں۔اس پر حضرت مولوی غلام حسین صاحب نے ان مولوی صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ لوگ تو حضرت پیر پیران کی نیاز دیتے ہیں تمہاری قبر پر تو کوئی چراغ بھی نہیں جلائے گا۔حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل فرمایا کرتے تھے کہ اس دن ہم نے پہلی مرتبہ مولوی غلام حسین صاحب کو دیکھا تھا۔نیز فرمایا کرتے تھے کہ حضرت اقدس سر فضل حسین صاحب مرحوم کے والد ماجد خاں صاحب میاں حسین بخش صاحب بٹالوی ڈسٹرکٹ جج پشاور اور خاں بہادرمیاں خدا بخش صاحب امرتسری ڈسٹرکٹ حج گورداسپور ( یہ بزرگ جلسہ مذاہب عالم کے موڈریٹر صاحبان میں سے بھی تھے ) کو اپنی شخصی و جاہت اور اوائل عمر کی پاکیزہ زندگی کے لئے بھی پیش فرمایا کرتے تھے۔اسی طرح حضور نے دو بزرگوں اعنی حضرت مولوی غلام حسین صاحب امام مسجد گئی بازار اور حضرت بابا ہدایت اللہ صاحب مشہور پنجابی شاعر ( جن کی کافیاں بہت مشہور ہیں اور جنہوں نے وڈی ہیر وارث شاہ کو مکمل کیا تھا) کی بیعت پر خدا تعالیٰ کا خاص شکر ادا فرمایا کیونکہ یہ دونوں بزرگ کافی مسن و معمر تھے اور زیادہ عمر کے لوگوں کا بیعت کر لینا کوئی معمولی بات نہیں ہوا کرتی۔ان ضمنی واقعات کے بعد اب ہم پھر اصل مضمون کی طرف عود کرتے ہیں۔حضرت مولوی رحیم اللہ